Wednesday, October 21, 2026 | 09 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • دہلی ہائی کورٹ نے 16 سالہ جنسی زیادتی متاثرہ کو 31 ہفتوں کا حمل ختم کرنے کی اجازت دی

دہلی ہائی کورٹ نے 16 سالہ جنسی زیادتی متاثرہ کو 31 ہفتوں کا حمل ختم کرنے کی اجازت دی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 20 Oct 2026

دہلی ہائی کورٹ نے 16 سالہ جنسی زیادتی متاثرہ کو 31 ہفتوں کا حمل ختم کرنے کی اجازت دی
دہلی ہائی کورٹ نے جنسی زیادتی کا شکار 16 سالہ لڑکی کو 31 ہفتوں کا حمل ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایک ایسی نابالغ لڑکی سے، جو خود ابھی بلوغت کے مرحلے سے گزر رہی ہے، بچے کو جنم دینے اور اس کی پرورش کی ذمہ داری اٹھانے کی توقع کرنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت نے متاثرہ لڑکی کی ذہنی حالت، فلاح و بہبود اور اس کے وقار کے ساتھ جینے کے حق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ جسٹس منی پشکرنا نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جنسی زیادتی کا شکار نابالغ لڑکی کی جانب سے حمل ختم کرنے کی درخواست کو صرف خواتین کے تولیدی حقوق تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کا تعلق اس کے وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق سے بھی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کم عمر متاثرہ لڑکی پر حمل جاری رکھنے اور بچے کی پرورش کی ذمہ داری ڈالنا اس کے لیے شدید ذہنی اذیت کا سبب بن سکتا ہے۔
 
میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (MTP) ایکٹ کے تحت عام طور پر 20 ہفتوں تک حمل ختم کرنے کی اجازت ہے، جبکہ مخصوص حالات اور زمروں میں یہ مدت 24 ہفتوں تک ہے۔ جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین بھی ان مخصوص زمروں میں شامل ہیں۔ تاہم، اس معاملے میں حمل 31 ہفتوں تک پہنچ چکا تھا۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور متاثرہ لڑکی کے بہترین مفاد کو دیکھتے ہوئے عدالت نے غیر معمولی حالات میں حمل ختم کرنے کی اجازت دے دی۔
 
عدالت کو بتایا گیا کہ میڈیکل بورڈ نے متاثرہ لڑکی کو طبی طور پر حمل ختم کرنے کے عمل کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔ لڑکی اور اس کی والدہ دونوں نے حمل ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حمل جاری رہنے سے لڑکی کو شدید نفسیاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ان کی درخواست منظور کرلی اور طبی طریقے سے حمل ختم کرنے کی اجازت دے دی۔
 
عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ لڑکی کو دہلی کے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ہدایت دی کہ حمل ختم کرنے کے عمل کے دوران جنین کے ٹشوز محفوظ رکھے جائیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر زیادتی کے مقدمے میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ان کا استعمال کیا جا سکے۔ اس ہدایت کا مقصد متاثرہ لڑکی کو ضروری طبی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ مقدمے سے متعلق اہم شواہد کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔
 
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حمل ختم کرنے کے تمام طبی اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر طبی عمل کے دوران بچہ زندہ پیدا ہوتا ہے تو اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو نومولود کے لیے ہر ممکن طبی امداد یقینی بنانی ہوگی۔ ایسی صورت میں بچے کو گود دینے کے انتظامات متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کی خواہشات اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیے جائیں گے۔
 
عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ متاثرہ لڑکی کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہیں کی جانی چاہیے۔ اس مقدمے میں لڑکی کی والدہ نے بھی حمل ختم کرنے کی درخواست کی حمایت کی تھی۔ عدالت نے متاثرہ لڑکی کے حقوق، ذہنی کیفیت اور رازداری کے تحفظ کو اہمیت دیتے ہوئے متعلقہ ہدایات جاری کیں۔