حیدرآباد کے ٹینک بنڈ (حسین ساگر) پر گنیش وسرجن کے معاملے نے اچانک کشیدہ رخ اختیار کرلیا۔ حسین ساگر میں گنیش وسرجن پر پابندی کے خلاف بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی نے احتجاج کیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے ٹینک بنڈ کے اطراف لگائے گئے آہنی بیریکیڈز ہٹا دیے۔جس کے بعد علاقہ میں حالات کچھ دیر کےلئے كشید ہ ہو گئے۔ برہم سمیتی کے ارکان نے بیریگیڈز کو زبردستی نکال کر ٹینک بینڈ میں ڈال دیا ۔ واضح رہےکہ عدالتی احکامات پر ہی جی ایچ ایم سی اور پولیس کی طرف سے پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ اور پلاسٹر آف پیرس کی مورتیوں کے ٹینک بنڈ میں وسرجن پر پابندی لگائی گئی ہے۔واضح رہےکہ گنیش وسرجن کا مرکزی جلوس حیدرآباد میں 25 ستمبر کو ہوگا۔ قدیم شہر کے بالا پور سے ٹینک بنڈ تک ہوتا ہے۔
وہیں، حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے یا سرکاری انتظامات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی کا کہنا ہے کہ ٹینک بنڈ پر گنیش وسرجن روکنا عقیدت مندوں کے جذبات کے خلاف ہے ۔پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس کے دوران حالات كچھ دیر كے لئے كشیدہ ہو گئے اور بعد ازاں پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ احتجاجیوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کے خلاف "GHMC ڈاؤن ڈاؤن" جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عقیدت مندوں کو ٹینک بنڈ میں وسرجن جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اسی دوران مصروف سڑک پر ٹریفک جام ہوگیا۔
مقامی رپورٹ کے مطابق گنیش اتسو سمیتی کے ارکان نے ٹینک بنڈ پر وسرجن کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جب کے تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت حسین ساگر میں پی او پی سے تیار کردہ گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی سے متعلق احکامات پہلے ہی موجود ہیں۔ ایسے میں یہاں کسی تنظیم کے دعوے یا نعرے سے زیادہ اہم سوال قانونی اختیار کا ہے۔اگر سرکاری ادارہ کسی عدالتی یا انتظامی حکم کے تحت رکاوٹ قائم کرتا ہے تو اسے خود ہٹانے کی قانونی بنیاد کیا ہے ملک سے محبت کے دعوے اپنی جگہ، مذہبی عقیدت اپنی جگہ، عوامی جذبات اپنی جگہ لیکن ایک جمہوری نظام میں آئین، عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے احکامات کی پابندی بھی بنیادی ذمہ داری ہے جو لوگ خود کو ملک اور سماج کے محافظ قرار دیتے ہیں، کیا ان پر قانون کی پابندی کی ذمہ داری دوسروں سے کم ہے۔ اگر قانون کی پاسداری پسند نہیں تو کیا اس کا جواب قانونی طریقے سے نہیں دیا جاسکتا ۔
اگر ہائی کورٹ کی ہدایت سے اختلاف ہے تو کیا اس کا فیصلہ ٹینک بنڈ پر بیریکیڈ ہٹا کر کیا جائے گا ۔اور اگر پولیس کسی عدالتی یا انتظامی حکم پر عمل کرارہی ہو تو اسے للکارنے یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سے آخر کون سا مقصد حاصل ہوگا البتہ سوال صرف مظاہرین سے نہیں ہے۔ انتظامیہ کو بھی جواب دینا ہوگا کہ اگر ہر سال وسرجن کے موقع پر ٹینک بنڈ، حسین ساگر، راستوں اور متبادل وسرجن مقامات کو لے کر تنازع پیدا ہوتا ہے تو تمام فریقوں کے ساتھ واضح، تحریری اور قابلِ عمل منصوبہ پہلے سے کیوں نافذ نہیں کیا جاتا اگر ہر سال یہی تنازع دہرانا ہے تو پھر اتنی میٹنگیں، اتنے احکامات اور اتنا انتظام آخر کس مسئلے کو حل کر رہا ہے وسرجن عقیدت کے ساتھ ہو، مگر قانون کی حدود میں کیونکہ مذہبی آزادی اور قانون کی پابندی ایک دوسرے کی ضد نہیں، دونوں ساتھ چل سکتے ہیں۔
احتجاج کے پیش نظر ٹینک بنڈ پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی۔پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے موقع پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔







