جموں و کشمیر لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری کمار راجیو رنجن کے ایک خاتون ملازمہ کے ساتھ گالی گلوچ اور بدتمیزی کے معاملے کے بعد، جی اے ڈی نے معاملے کی پندرہ دن کے اندر تحقیق کا حکم جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر سیاسی و سماجی جماعتوں نے معاملے کی مذمت کی ہے اور متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس ایک روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔
جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) ایسوسی ایشن کی عبوری باڈی نے 14 اکتوبر کو ایک سرکاری اجلاس میں مبینہ طور پر ایک خاتون جے کے اے ایس افسر کی تذلیل کے واقعے کے خلاف ایک روزہ قلم بند ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسوسی ایشن کی اندرونی مشاورت کے بعد ارکان کو بھیجی گئی ایک باضابطہ اطلاع میں کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ احتجاج وقار، خود احترام اور ادارہ جاتی عزت کے دفاع کے لیے ہے۔
عبوری باڈی، جسے اے جے جے ایس کے اے بھی کہا جاتا ہے، نے اپنے تمام ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور بطور ادارہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ بیان کے مطابق ایک افسر کی عزتِ نفس پر مبینہ حملہ دراصل پوری برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس لیے اجتماعی ردِّعمل ناگزیر تصور کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ اعلان کردہ روز پر قلم بند رہیں اور معمول کی دفتری کاروائی معطل رکھتے ہوئے اپنے دفتر مقامات پر پُرامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
یہ قدم اس مبینہ واقعے کے پس منظر میں اٹھایا جا رہا ہے جس کا تعلق 14 اکتوبر کے ایک سرکاری اجلاس سے جوڑا گیا ہے، جہاں ایک سینئر آئی اے ایس افسر پر ایک خاتون جے کے اے ایس افسر کی تحقیر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ اگرچہ واقعے کی باضابطہ تحقیقات یا سرکاری مؤقف کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ ادارہ جاتی احترام کے تقاضوں کے تحت خاموش رہنا ممکن نہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ایک روزہ قلم بند ہڑتال متعین تاریخ پر وادی اور جموں خطے کے سرکاری دفاتر میں بیک وقت منائی جائے گی، جہاں جے کے اے ایس افسران اپنے فرائضِ منصبی کی تحریری کاروائیاں عارضی طور پر معطل رکھیں گے۔ کیوں ضروری سمجھا گیا؟ عبوری قیادت کا مؤقف ہے کہ سیول سروسز میں باہمی احترام اور محفوظ ماحول بنیادی اصول ہیں، اور کسی بھی افسر کی تذلیل نہ صرف شخصی وقار بلکہ انتظامی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کیسے منظم کیا جائے گا؟ یونٹ سطح پر فوکل پرسنز ارکان سے رابطہ رکھیں گے، حاضری یقینی بنائیں گے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ احتجاج پُرامن اور باوقار رہے۔
جے کے اے ایس کے ارکان، بطور خاص وہ افسران جو ضلعی و صوبائی دفاتر میں تعینات ہیں۔ کس کے خلاف اعتراض ہے؟ ایسوسی ایشن نے کسی فرد کا نام جاری نہیں کیا، مگر یہ کہا کہ معاملہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کے مبینہ طرزِ عمل سے متعلق ہے۔ آگے کیا ہوگا؟ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہو، حقائق سامنے آئیں، اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق اور جواب دہی کا نظام مضبوط بنایا جائے۔







