Sunday, September 20, 2026 | 06 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • امراضِ نسواں میں بڑے فائبرائڈز، سسٹس اور رسولیاں

امراضِ نسواں میں بڑے فائبرائڈز، سسٹس اور رسولیاں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 19 Sept 2026

امراضِ نسواں میں بڑے فائبرائڈز، سسٹس اور رسولیاں
خواتین میں رحم اور بیضہ دانی سے متعلق فائبرائڈز، سسٹ اور مختلف قسم کی رسولیوں کی تشخیص عام بات ہے۔ بعض اوقات یہ مسائل معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں اور صرف نگرانی کافی ہوتی ہے، لیکن جب ان کا سائز بڑھنے لگے یا علامات پیدا ہوں تو بروقت طبی معائنہ ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈاکٹر افروز فاطمہ نے اہم جانکاری دی
 
پروگرام میں Dr. Afrose Fathima، Consultant Obstetrician, Gynaecologist & Infertility Specialist، Bliss Hospital, Mehdipatnam, Hyderabad نے خواتین میں پائے جانے والے بڑے فائبرائڈز، سسٹ اور ٹیومرز کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
 
رحم کے فائبرائڈز عموماً غیر سرطانی رسولیاں ہوتی ہیں جو رحم کی مختلف تہوں میں بن سکتی ہیں۔ ان کا سائز اور تعداد ہر خاتون میں مختلف ہوسکتی ہے۔ بعض خواتین میں فائبرائڈز موجود ہونے کے باوجود کوئی خاص علامت ظاہر نہیں ہوتی، جبکہ کچھ میں ماہواری کے دوران زیادہ خون آنا، پیڑو میں درد یا دباؤ، بار بار پیشاب آنا، قبض یا پیٹ کے نچلے حصے میں بھاری پن جیسی شکایات سامنے آسکتی ہیں۔
 
دوسری جانب بیضہ دانی کے سسٹ بھی مختلف اقسام کے ہوسکتے ہیں۔ بہت سے سسٹ ہارمونی تبدیلیوں کے باعث بنتے ہیں اور وقت کے ساتھ خود بھی ختم ہوسکتے ہیں۔ تاہم بڑے سسٹ، مسلسل درد پیدا کرنے والے سسٹ یا غیر معمولی نوعیت کے سسٹ میں ڈاکٹر کی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
ماہرِ امراضِ نسواں کے مطابق ہر رسولی یا سسٹ کو کینسر سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح صرف سائز کی بنیاد پر بھی کسی بیماری کی نوعیت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ تشخیص کے لیے مریضہ کی علامات، طبی تاریخ اور ضرورت کے مطابق الٹراساؤنڈ یا دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
 
بعض فائبرائڈز یا سسٹ میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ڈاکٹر وقفے وقفے سے ان کی نگرانی کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ اگر خون زیادہ آتا ہو، درد مسلسل رہے، رسولی تیزی سے بڑھ رہی ہو، بانجھ پن سے متعلق مسئلہ ہو یا روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہو تو علاج کے مختلف طریقوں پر غور کیا جاسکتا ہے۔ بعض کیسز میں ادویات جبکہ کچھ پیچیدہ صورتوں میں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
 
اچانک شدید پیٹ یا پیڑو کا درد، چکر آنا، بے ہوشی، غیر معمولی خون بہنا یا پیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سوجن جیسی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں فوری طبی مدد لینا ضروری ہے۔
 
خواتین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماہواری میں غیر معمولی تبدیلی، مسلسل پیڑو کا درد یا پیٹ میں غیر معمولی بھاری پن کو صرف معمول کا حصہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص سے بیماری کی نوعیت سمجھنے اور مناسب علاج کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ہر مریضہ کا علاج اس کی عمر، علامات، مستقبل میں حمل کی خواہش اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جاتا ہے۔
 
 قارئین آپ،ڈاکٹر افروز فاظمہ، کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ بلس ہاسپٹل حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی  دیکھ سکتےہیں۔