راجستھان کے شہری بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کے سامنے اب ایک بڑا سیاسی چیلنج ہے۔ 23 اکتوبر 2026 سے شروع ہونے والے چار مرحلوں پر مشتمل پنچایتی راج انتخابات میں 4 کروڑ 3 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان انتخابات کے ذریعے 41 ضلع پریشدوں، 457 پنچایت سمیتیوں اور 14,403 گرام پنچایتوں کے نمائندے منتخب کیے جائیں گے۔ ستمبر میں ہونے والے شہری بلدیاتی انتخابات میں تقریباً 1 کروڑ 44 لاکھ ووٹروں نے حصہ لیا تھا۔ اس کے مقابلے میں پنچایتی انتخابات میں ووٹروں کی تعداد تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا بی جے پی شہری علاقوں میں ملنے والی کامیابی کو دیہی علاقوں میں بھی دہرا سکے گی؟ یہ انتخابات صرف مقامی نمائندوں کے انتخاب تک محدود نہیں ہیں، بلکہ انہیں بھجن لال شرما حکومت کی گزشتہ ڈھائی برس کی کارکردگی اور سیاسی حکمت عملی کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پنچایتی انتخابات کی اہمیت سمجھنے کے لیے شہری بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی 309 شہری بلدیاتی اداروں میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور 148 اداروں میں اسے برتری حاصل ہوئی، جبکہ کانگریس 104 اداروں میں آگے رہی۔ ووٹوں کے تناسب کے لحاظ سے دونوں پارٹیوں کے درمیان فرق بہت کم تھا۔ بی جے پی کو 35.18 فیصد اور کانگریس کو 34.24 فیصد ووٹ ملے۔ اس طرح دونوں کے ووٹ شیئر میں صرف 0.94 فیصد کا فرق رہا، جو تقریباً 99,615 ووٹوں کے برابر بتایا گیا۔ آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر 27.38 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ وارڈ سطح کے نتائج کے بعد بی جے پی 200 سے زیادہ مقامی انتظامی بورڈز بنانے میں کامیاب رہی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ اس کے بعض کونسلروں نے کراس ووٹنگ کی۔ پارٹی نے اس معاملے کی جانچ کے لیے سابق ریاستی صدر سی پی جوشی کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی بنائی ہے۔ کانگریس کے 400 سے زیادہ کونسلروں کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔
شہری انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے پنچایتی انتخابات کی تیاریوں پر توجہ بڑھا دی۔ 14 اکتوبر کو کابینہ کے ساتھ اجلاس میں انہوں نے ’ٹرپل انجن‘ کا نعرہ پیش کیا۔ اس حکمت عملی کے تحت گرام پنچایت، پنچایت سمیتی اور ضلع پریشد کی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی انتظامیہ قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ مرکز، ریاست اور مقامی سطح پر ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے سے دیہی ترقی کے کاموں میں تیزی آ سکتی ہے۔ پارٹی نے پنچایتی انتخابات کے لیے اپنا ’گرام وکاس سنکلپ پتر‘ بھی جاری کیا ہے۔ اس میں دیہی علاقوں سے نقل مکانی روکنے اور گاؤں میں شہری علاقوں جیسی سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس تصور کو ’شہر گرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔
بی جے پی کے منشور میں ہر پنچایت میں سینئر سیکنڈری اسکول، کھیل کے میدان اور اوپن ایئر جم بنانے کا وعدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہر پنچایت سمیتی میں بلڈ بینک اور ہر گاؤں میں صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ منشور میں کسانوں کے لیے پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت سالانہ مالی امداد بڑھا کر 12,000 روپے کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ پارٹی نے اگلے پانچ برس میں ہر پنچایت میں اوسطاً 5 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان وعدوں کے ذریعے بی جے پی دیہی ووٹروں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ حکومت ان کے روزمرہ مسائل اور ضروریات کو اہمیت دیتی ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے بی جے پی کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام لگایا ہے کہ کسان بھجن لال شرما حکومت سے ناخوش ہیں اور پنچایتی انتخابات میں بی جے پی کو اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ گہلوت کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے کئی مقبول اور طویل عرصے سے جاری اسکیمیں بند کر دی ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں ناراضی پیدا ہوئی ہے۔ کانگریس اس معاملے کو اٹھا کر بی جے پی کے گڈ گورننس کے دعوے کو چیلنج کر رہی ہے۔ پارٹی نے دیہی علاقوں میں اپنی مہم تیز کرنے کے لیے اہم انتخابی مہم چلانے والوں، ضلعی مبصرین اور پنچایت سمیتی کے رابطہ کاروں کو میدان میں اتارا ہے۔
پنچایتی انتخابات بھجن لال شرما کے لیے کیوں اہم ہیں؟
ان انتخابات کی اہمیت کے پیچھے تین بڑی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ ووٹروں کی بڑی تعداد ہے۔ چار کروڑ سے زیادہ ووٹروں کی شرکت ان انتخابات کو ریاست کی سیاست میں اہم بناتی ہے۔ دوسری وجہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ اقتدار میں ڈھائی سال گزارنے کے بعد حکومت کو اپنے وعدوں اور زمینی سطح پر کیے گئے کاموں کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ تیسری وجہ مقامی مسائل ہیں۔ پنچایتی انتخابات میں سڑکیں، پانی، صفائی، اسٹریٹ لائٹس اور کوڑا کرکٹ کا انتظام جیسے مسائل ووٹروں کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار منیش گوڈھا نے ان انتخابات کو وزیر اعلیٰ کے لیے ایک اہم کسوٹی قرار دیا ہے۔
بی جے پی نے تنظیمی سطح پر بھی تیاری تیز کر دی ہے۔ ستمبر میں سنجے بھاٹیہ کو راجستھان کا انچارج مقرر کیا گیا، جبکہ کویتا پاٹیدار اور کلجیت چاہل کو شریک انچارج کی ذمہ داری دی گئی۔ 25 ستمبر کو پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری نتن نبین نے راجستھان کا دورہ کیا اور انتخابی مہم کے لیے 90 گاڑیوں کو روانہ کیا۔ یہ گاڑیاں ریاست کے مختلف علاقوں میں جا کر حکومت کے کاموں اور منصوبوں کو اجاگر کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے بھی 10 بڑے شہری مراکز میں روڈ شوز کیے ہیں۔ اب ان کی توجہ دیہی علاقوں میں جلسوں اور عوامی رابطوں کے ذریعے انتخابی مہم کو آگے بڑھانے پر ہے۔
راجستھان کے پنچایتی انتخابات کو 2028 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ایک اہم سیاسی امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر بی جے پی شہری علاقوں جیسی کارکردگی دیہی علاقوں میں بھی دکھاتی ہے تو اسے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر کانگریس کسانوں اور دیہی ووٹروں کی ناراضی کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔ چار مرحلوں میں ہونے والے ان انتخابات کے بعد 25 اور 27 نومبر کو ضلع پرمکھوں اور پنچایت سمیتی کے پردھانوں کے انتخاب کا عمل مکمل ہوگا۔ اس کے بعد واضح ہوگا کہ دیہی ووٹروں نے بی جے پی کی ’ٹرپل انجن‘ حکمت عملی پر اعتماد کیا ہے یا کانگریس کو اپنی حمایت بڑھانے کا موقع دیا ہے۔







