جموں و کشمیر نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) ملازمین کی ہڑتال حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد ختم کر دی گئی۔ NHM ملازمین نے 9 ستمبر سے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کی تھی۔
NHM ملازمین کے مطالبات
ملازمین ملازمتوں کو مستقل کرنے، تنخواہوں میں مساوات، ملازمت کے تحفظ، معاوضے میں نظرثانی، ریٹائرمنٹ فوائد اور سماجی تحفظ کے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کپواڑہ میں 1،270 ملازمین ہڑتال پر
کپواڑہ کے مختلف طبی زونز میں کام کرنے والے 1،270 NHM ملازمین میں 365 ڈاکٹرز، 840 پیرا میڈیکل اور دیگر عملہ، جبکہ 65 ملازمین انتظامی امور سے وابستہ ہیں۔
دیہی اور سرحدی علاقوں میں زیادہ مشکلات
NHM ملازمین کی غیر موجودگی سے خاص طور پر دیہی اور سرحدی علاقوں میں طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق، کچھ مراکزِ صحت میں کام بند رہا، جبکہ کئی دیگر مراکز پر خدمات میں خلل پڑا۔
لولاب کے رہائشی محمد عباس نے کہا کہ دیہی اور سرحدی علاقوں کے لوگ بنیادی علاج، ادویات اور دیگر طبی سہولیات کے لیے ان مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔ NHM عملے کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑے۔
لال پورہ کے رہائشی ناصر احمر نے کہا کہ باقاعدہ طبی دیکھ بھال کی ضرورت رکھنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، غریب خاندانوں اور بزرگ مریضوں کے لیے بار بار ضلعی ہسپتالوں کا سفر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
دیگر طبی عملے پر کام کا بوجھ بڑھ گیا
ہڑتال کے باعث فعال طبی مراکز میں موجود عملے پر کام کا بوجھ بھی بڑھ گیا۔ حکام دستیاب عملے کے ذریعے ضروری طبی خدمات جاری رکھنے کے لیے انتظامات کر رہے تھے۔
بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ
مقامی لوگوں نے حکومت اور NHM ملازمین سے مطالبہ کیا کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں اور خاص طور پر دور دراز اور سرحدی علاقوں میں طبی خدمات کی فراہمی بحال رکھیں۔
ستمبر کی ہڑتال کئی مرتبہ بڑھائی گئی
9 ستمبر کو شروع ہوئی ہڑتال کو ملازمین نے مختلف مراحل میں 72، 72 گھنٹے کے لیے بڑھایا۔ 17 ستمبر کو بھی تنظیم نے مزید 72 گھنٹے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ ملازمین کو مطالبات پر حکومت کی طرف سے تحریری اور وقت مقررہ کے ساتھ یقین دہانی نہیں ملی تھی۔
17 ستمبر کو حکومت کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کا مقصد NHM ملازمین کے مطالبات کا جائزہ لینا اور ان کے حل کے لیے ایک جامع روڈمیپ تیار کرنا تھا۔
اس کے بعد 18 ستمبر کو وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اتو کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ملازمین نے تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد ہڑتال مؤخر کر دی۔
اپریل میں بھی ہڑتال ہو چکی تھی
NHM ملازمین نے اس سال 1 اور 2 اپریل کو بھی جموں و کشمیر میں دو روزہ ہڑتال کی تھی۔ اس وقت ان کا اہم مطالبہ تنخواہوں میں اضافہ اور NHM سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لیے جامع "گولڈن ہینڈ شیک پالیسی" تھا۔







