حیدرآباد جی پی او کا درجہ کم کرنے کی تجویز کو واپس لینے اویسی کی مانگ، مرکز کولکھاخط
حیدرآباد کے ایم پی نے جی پی او کو گروپ 'اے' سے 'بی' میں تبدیل کرنے کی مخالفت کی
اویسی نے کہا جی پی اوایک صدی قدیم اور تاریخی ادارہ ہے اور کام کا بوجھ بھاری ہے
اسد اویسی نے یاد دلایا کہ تلنگانہ میں واحد فیلیٹلک بیورو یہاں واقع ہے
مرکزی وزراءیماسانی چندر شیکھر اور سندھیا سے مداخلت کی اپیل
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا کہ وہ حیدرآباد جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) کی حیثیت کو گھٹانے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہیں۔جو کہ حیدرآباد شہر کا تاریخی ورثہ ہے۔ انہوں نے ہفتہ کے روز مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات پیماسانی چندر شیکھر اور مرکزی وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا کو خط لکھ کر اس تجویز کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اویسی نےاپنے خط میں ذکرکیا کہ حیدرآباد جی پی او کو گروپ 'اے' سے گروپ 'بی' میں گھٹا کر اسے حیدرآباد سٹی ڈویژن میں ضم کرنے کی حالیہ تجویز غلط تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ایک صدی سے زائد کی تاریخ رکھنے والے اس ادارے کی حیثیت کو گھٹانا غیر منصفانہ اور یکطرفہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس خط کے ساتھ جی پی او ملازمین کی جانب سے موصول ہونے والی درخواست بھی منسلک کی ہے۔
اس موقع پر اویسی نے جی پی او کی اہمیت کو بیان کیا۔ "حیدرآباد جی پی او ایک اہم ادارہ ہے جس میں زیادہ کام کا بوجھ ہے۔ حیدرآباد ہیڈ پوسٹ آفس کے تحت جملہ میل سرگرمیوں میں جی پی او کا حصہ نمایاں ہے۔ اس کی ترسیل کا دائرہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ ریاست تلنگانہ میں واحد فلاٹیلیک بیورو (ڈاک ٹکٹوں کا مجموعہ، ڈاک کی تاریخ پر تحقیق) یہاں واقع ہے،"
اویسی نے یاد دلایا کہ یہ تاریخی ادارہ، جو ،ان کے پارلیمانی حلقہ کے تحت واقع ہے، شہر میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور لاکھوں لوگوں کو ڈاک خدمات فراہم کرتا ہے۔ لوگوں کے مفادات اور ادارے کی وراثتی شناخت کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے مرکزی وزراء سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جی پی او کی حیثیت کو کم کرنے اور اسے ضم کرنے اور چیف پوسٹ ماسٹر کے تحت ایک آزاد گروپ 'اے' ادارے کے طور پر جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔







