جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے دہلی میں انکیتا بھنڈاری کے والدین کو حراست میں لیے جانے کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بہار کے سہرسہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس احکامات کے تحت کام کرتی ہے اور اس کے اقدامات کی ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ پرشانت کشور نے الزام لگایا کہ دہلی میں نوجوانوں اور مظاہرین کے ساتھ پولیس کا رویہ قابلِ اعتراض ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کے تکبر کو روکنے کا راستہ انتخابات میں اسے شکست دینا ہے۔
پرشانت کشور نے امت شاہ کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے مظاہروں کے فائدے پر سوال اٹھایا تھا اور بلدیاتی و یونیورسٹی انتخابات میں کامیابی کا ذکر کیا تھا۔ پی کے نے کہا کہ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف سڑکوں پر احتجاج کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔ انہوں نے بہار میں قانون ساز کونسل (MLC) کی آٹھ نشستوں کے لیے ہونے والے آئندہ انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی، جے ڈی یو اور این ڈی اے کو شکست دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام انتخابات میں حکمران جماعتوں کو شکست نہیں دیتے تو مستقبل میں دوسرے خاندانوں کو بھی اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس طرح ان کے بقول انکیتا بھنڈاری کے خاندان کو کرنا پڑ رہا ہے۔
پرشانت کشور نے بہار میں جرائم کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت والی حکومت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے آرا میں کسٹمز کے ایک ریٹائرڈ افسر کے قتل اور نالندہ میں شراب کے مبینہ اسمگلروں کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مجرموں کو قانون ساز اداروں تک پہنچایا جاتا ہے اور حکومت پر بھی مجرموں کو تحفظ دینے کے الزامات لگتے ہیں، تو ایسے حالات میں ایک محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ پی کے نے الزام لگایا کہ پولیس اور انتظامیہ جرائم پر قابو پانے کے بجائے شراب بندی کے نفاذ، ریت مافیا سے فائدہ اٹھانے اور مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
پرشانت کشور نے راگھوپور میں کشتی حادثے پر بھی دکھ کا اظہار کیا، جس میں متعدد بچوں کی موت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بچوں کی جان بچانے کے لیے ایسے حادثات کے دوران قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF) یا اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (SDRF) کی ٹیمیں موقع پر کیوں موجود نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ ووٹ دیتے وقت تعلیم، روزگار، صحت اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بجائے ذات اور مذہب کو ترجیح دیتے ہیں تو حالات میں تبدیلی مشکل ہو جاتی ہے۔ پرشانت کشور کے مطابق، بہار میں حقیقی تبدیلی کے لیے عوام کو انتخابی فیصلے کرتے وقت ذات پات اور مذہب سے آگے بڑھ کر اپنی بنیادی ضروریات اور بچوں کے مستقبل کو اہمیت دینی ہوگی۔






