ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے بعد کئی بڑے بینکوں نے بھی اپنی قرض دینے کی شرحوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پنجاب نیشنل بینک، بینک آف انڈیا، انڈین بینک، انڈین اوورسیز بینک اور بینک آف بڑودہ نے ریپو سے منسلک قرض کی شرحوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان صارفین پر پڑے گا جن کے قرض ریپو ریٹ سے منسلک ہیں۔ بدھ کے روز آر بی آئی نے پالیسی ریپو ریٹ کو 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 5.50 فیصد کر دیا۔ فروری 2023 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے جب مرکزی بینک نے ریپو ریٹ میں اضافہ کیا ہے۔
شرح میں اضافے کے بعد بینکوں کی جانب سے قرض کی شرحوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس سے نئے قرض لینے والوں کے ساتھ ساتھ ریپو سے منسلک موجودہ قرض لینے والوں پر بھی مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ بینک آف انڈیا نے اپنی ریپو بیسڈ لینڈنگ ریٹ کو 8.10 فیصد سے بڑھا کر 8.35 فیصد کر دیا ہے۔ نئی شرح کا اطلاق 7 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔ بینک کے مطابق ریپو ریٹ کا حصہ 5.25 فیصد سے بڑھ کر 5.50 فیصد ہوا ہے، جبکہ 2.85 فیصد کا مارک اپ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ریپو سے منسلک قرض لینے والوں کی ماہانہ EMI بڑھ سکتی ہے یا قرض کی مدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پنجاب نیشنل بینک نے اپنی ریپو لنکڈ لینڈنگ ریٹ (RLLR) کو 8.10 فیصد سے بڑھا کر 8.35 فیصد کر دیا ہے۔ نئی شرح 8 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔ تاہم بینک نے واضح کیا ہے کہ MCLR اور بیس ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ انڈین بینک نے اپنی ریپو لنکڈ بینچ مارک لینڈنگ ریٹ کو 7.95 فیصد سے بڑھا کر 8.20 فیصد کر دیا ہے۔ نئی شرح کا اطلاق بھی 8 اکتوبر سے ہوگا۔ انڈین اوورسیز بینک (IOB) نے بھی اپنی ریپو بیسڈ لینڈنگ ریٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 8.35 فیصد کر دیا ہے۔ نئی شرح 8 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔بینک آف بڑودہ نے اپنی ریپو بیسڈ لینڈنگ ریٹ کو 7.90 فیصد سے بڑھا کر 8.15 فیصد کر دیا ہے، یعنی شرح میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ریپو ریٹ میں اضافے اور اس کے بعد بینکوں کی جانب سے قرض کی شرحیں بڑھانے کا مطلب ہے کہ ریپو سے منسلک قرض لینے والوں کے لیے قرض کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر ہوم لون اور دیگر طویل مدتی قرض لینے والوں کو اس تبدیلی کے اثرات EMI یا قرض کی مدت کی صورت میں محسوس ہو سکتے ہیں۔







