ہندوستانی سنیما میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کی بلکہ سماج کے اہم مسائل کو بھی پردۂ سیمیں پر پیش کیا۔ ایسی ہی ایک عظیم شخصیت تھے مشہور فلم ساز اور ہدایت کار بی آر چوپڑا، جن کا اصل نام بلدیو راج چوپڑا تھا۔ انہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے ہندی سنیما کو ایک نئی پہچان دی۔ بی آر چوپڑا 22 اپریل 1914 کو پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور 5 نومبر 2008 کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں تک فلمی دنیا میں کام کیا۔ ان کی فلموں میں خاندانی رشتے، خواتین کے حقوق، ازدواجی زندگی، انصاف، غربت، بے روزگاری اور سماجی ناہمواری جیسے موضوعات کو خاص اہمیت حاصل رہی۔
صحافت سے فلمی دنیا تک کا سفر
بی آر چوپڑا نے لاہور کے گورنمنٹ کالج سے انگریزی ادب میں گریجویشن کیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز فلمی صحافت سے کیا اور میگزین ’سنے ہیرالڈ‘ میں فلموں پر تجزیے لکھے۔ 1949 میں فلم ’کروٹ‘ کے ذریعے فلم سازی میں قدم رکھا، لیکن یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس ناکامی کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ 1951 میں اشوک کمار کی اداکاری میں فلم ’افسانہ‘ کی ہدایت کاری کی۔ یہ فلم باکس آفس پر سلور جوبلی ثابت ہوئی اور بی آر چوپڑا کو فلمی دنیا میں ایک مضبوط شناخت ملی۔
’نیا دور‘ اور ’قانون‘ نے بدلی فلم سازی کی سوچ
1955 میں انہوں نے اپنے فلمی بینر ’بی آر فلمز‘ کے تحت فلم ’نیا دور‘ بنائی۔ اس فلم میں جدید مشینوں اور انسانی محنت کے درمیان ٹکراؤ کے ساتھ دیہی زندگی اور بدلتے ہوئے سماج کی تصویر پیش کی گئی۔ فلم کو زبردست کامیابی ملی اور سماجی موضوعات پر فلم سازی کو ایک نئی سمت حاصل ہوئی۔ 1960 میں بی آر چوپڑا نے فلم ’قانون‘ کے ذریعے ایک منفرد تجربہ کیا۔ اس فلم میں کوئی گانا شامل نہیں تھا، لیکن اس کی کہانی، سنسنی خیز انداز اور مضبوط مکالموں نے اسے یادگار بنا دیا۔ اسی فلم کے لیے انہیں 1960 میں فلم فیئر کا بہترین ہدایت کار ایوارڈ بھی ملا۔
فلموں کے ذریعے سماجی مسائل کو اجاگر کیا
بی آر چوپڑا کا ماننا تھا کہ سنیما کا مقصد صرف لوگوں کو محظوظ کرنا نہیں بلکہ سماج کو بہتر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی فلموں میں بیوہ کی دوبارہ شادی، خواتین کے ساتھ ناانصافی، مذہبی اور سماجی تعصب، عدالتی نظام کی پیچیدگیاں، غربت اور بے روزگاری جیسے موضوعات بار بار نظر آئے۔ ان کی فلموں کی ایک بڑی پہچان مضبوط مکالمے اور یادگار موسیقی بھی تھی۔ فلم ’نیا دور‘ کے گیت ’مانگ کے ساتھ تمہارا‘ اور ’اڑے جب جب زلفیں تیری‘ کو محمد رفیع اور آشا بھوسلے کی آواز نے بے حد مقبول بنایا۔ ان کے فلمی بینر نے مہندر کپور جیسے گلوکار کو بھی پہچان دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یش چوپڑا کی کامیابی میں اہم کردار
بی آر چوپڑا نے اپنے چھوٹے بھائی یش چوپڑا کی تخلیقی صلاحیتوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ ’دھول کا پھول‘، ’وقت‘ اور ’اتفاق‘ جیسی فلموں نے یش چوپڑا کو ایک نمایاں ہدایت کار کے طور پر پہچان دلائی۔
’مہابھارت‘ نے ٹیلی ویژن پر بھی تاریخ رقم کی
صحت کے مسائل کے باعث بی آر چوپڑا نے 1980 کی دہائی میں فلم سازی کی رفتار کم کردی اور 1985 میں ٹیلی ویژن کی دنیا کا رخ کیا۔ ان کا مشہور سیریل ’مہابھارت‘ دوردرشن پر نشر ہوا اور اسے زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سیریل کی ناظرین تک رسائی تقریباً 96 فیصد بتائی جاتی ہے اور اسے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی جگہ ملی۔ 1998 میں بی آر چوپڑا کو ہندوستانی سنیما کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فلم سازی کے علاوہ انہوں نے ’باغبان‘ اور ’بابل‘ جیسی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔
بی آر چوپڑا آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی فلمیں، ان کے کردار اور ان کے پیش کیے گئے سماجی موضوعات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک اچھی فلم نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ سماج کو سوچنے اور اپنے رویوں پر غور کرنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ہندوستانی سنیما میں سماجی اور خاندانی فلموں کے ایک اہم علمبردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔







