Wednesday, October 21, 2026 | 09 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ کابینہ کی توسیع میں غیر یقینی: دسہرہ پر بھی کانگریس لیڈر مایوس

تلنگانہ کابینہ کی توسیع میں غیر یقینی: دسہرہ پر بھی کانگریس لیڈر مایوس

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 20 Oct 2026

تلنگانہ کابینہ کی توسیع میں غیر یقینی: دسہرہ پر بھی کانگریس لیڈر مایوس
 کانگریس پارٹی تلنگانہ ریاست میں تین سال سے برسراقتدار رہنے کے باوجود ابھی تک مکمل کابینہ تشکیل نہیں دے پائی ہے۔ پچھلے سال کے دسہرہ سے ہی وہ کہہ رہے ہیں کہ  کابینہ کی توسیع کی جائے گی۔ وزارتی عہدوں کی امید رکھنے والے دہلی  دورے کر کے تھک چکے ہیں۔ پہلے، انہیں  کہا کہ توسیع کیرالہ اور بنگال کے انتخابات کے بعد  کابینہ میں توسیع ہوگی۔ پھر انہیں کہا کہ یہ سنکرانتی کے بعد ہوگا۔ اور پھر انہیں اْگادی کی یقین دہانی کرائی۔ کل تک کانگریس کے لیڈر دسہرہ میں کابینہ کی توسیع کو یقینی سمجھ رہے تھے۔ لیکن اب دسہرہ کا تہوار بھی آچکا ہے لیکن کہیں بھی کابینہ میں توسیع کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔
 
وزارت کے خواہش مند لیڈرز مایوس 
مزید یہ کہ ایم ایل ایز کا کابینہ کی توسیع سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ وہ شکایت کر رہے ہیں کہ کے سی آر نے بی آر ایس حکومت کے دوران مکمل کابینہ کے ساتھ حکومت کی، اور یہ کہ کانگریس کے دور حکومت میں تین و زارت  خالی  ہیں ۔ پارٹی ذرائع اور عہدیدار بے صبری کا اظہار کررہے ہیں کہ تمام اہم محکمے وزیراعلیٰ کے پاس ہونے کی وجہ سے حکومت جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ سینئر لیڈران اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کانگریس ریاست میں اقتدار سنبھالنے کے تین سال بعد بھی کابینہ کو مکمل کرنے میں ناکام ہے۔ اور بقیہ دو آخری سالوں  میں انتخابی تیاریوں میں مصروف  رہے گی ، اس لیے سینئر ایم ایل ایز کو لگتا ہے کہ ایک سال وزیر رہنا یا نہ  رہنا ایک ہی  بات ہے۔
 
 کا بینہ میں ان اضلاع  سے نمائندگی نہیں
علیحدہ ریاست کے قیام کے بعد بھی تلنگانہ میں ہر متحدہ  ضلع کو سیاسی اہمیت حاصل ہوئی۔ بی آرایس کے دورحکومت میں اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست کے تمام خطوں کو مساوی ترجیح دی تھی۔ وہ صورت حال آج نہیں ہے۔ متحدہ  نظام آباد ضلع میں نو ایم ایل اے ہیں، لیکن ایک بھی کابینہ میں شامل نہیں ہے۔ بودھن ایم ایل اے، سابق وزیر سدرشن ریڈی اور پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ جیسے لوگ اس ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی صورتحال متحدہ  ضلع رنگاریڈی بھی ہے۔ اس ضلع سے ایک بھی شخص ، جس میں گریٹر حیدرآباد بھی شامل ہے، کو کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی۔ ابراہیم پٹنم کے ایم ایل اے مال ریڈی رنگاریڈی، تندور ایم ایل اے منوہر ریڈی، اور پرگی ایم ایل اے رام موہن ریڈی جیسے لوگ یہاں موجود ہیں۔ لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وقارآباد کے ایم ایل اے جی پرساد کمار اسپیکر ہونے کے باوجود عوام کے ساتھ توقع کے مطابق انصاف نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہاں کے قائدین متحدہ ضلع رنگاریڈی سے کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر پارٹی کے موقف پر کھل کر تنقید کررہے ہیں۔
 
کنڈہ سریکھا کی جگہ خالی 
مطالبہ ہے کہ کابینہ میں بی سی خاتون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور کونڈا سریکھا کو کابینہ سے برخاست کرنے کے بعد کم از کم اس عہدہ کو پر کیا جائے۔ تاہم، ایک خاتون رہنما جو اس عہدے کی خواہش مند ہیں۔تین سال ہو گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے پارٹی ہائی کمان کو سختی سے کہہ دیا ہے کہ اب انہوں نے وزارتی عہدہ سنبھال لیا ہے۔ خواہشمند اعلیٰ کمان سے التجا کرتے کرتے تھک گئے ہیں کہ دونوں عہدوں کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے اور کم از کم سریکھا  کے ہٹنے سے ہوئے خالی وزارت کو تو بھر دیا جائے۔
 
بے اطمینانی کے شعلے
ریاست میں نصف درجن سے زیادہ ایسے لیڈر ہیں جو سنجیدگی سے وزارتی عہدوں کے خواہشمند ہیں۔ منگوڑو کے ایم ایل اے کومتی ریڈی راج گوپال ریڈی، منچی ریال کے ایم ایل اے پریم ساگر راؤ، بودھن ایم ایل اے سدرشن ریڈی، کوڈاڈا ایم ایل اے اتم پدماوتی ریڈی، ایم ایل سی وجے شانتی، ڈورنکل ایم ایل اے رام چندرنائک، دیواراکونڈا ایم ایل اے بالونائک، یلاریڈی ایم ایل اے مدن موہن راؤ اور دیگر وزراء کے عہدے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے پیروکار شدید عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اس دسہرہ پر بھی کابینہ میں توسیع کا کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔
 
 
ان کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کمان کو باور کرایا ہے کہ اگر کابینہ میں توسیع اب کی جاتی ہے تو یہ بے فیص ہوگا اور اس سے انہیں انتظامی مسائل پیدا ہوں گے۔ حال ہی میں، کئی ایم ایل ایز کہہ رہے ہیں کہ کابینہ کی توسیع کے پیچھے حکومت کے نقطہ نظر کے بارے میں ان کی مضبوط بات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں اور دوستوں کے ساتھ حکومت کے خلاف باتیں بھی کر رہے ہیں۔