Sunday, September 20, 2026 | 06 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • گرین لینڈ کی سیکیورٹی پر امریکہ کو مستقل اختیار، ٹرمپ کا اعلان

گرین لینڈ کی سیکیورٹی پر امریکہ کو مستقل اختیار، ٹرمپ کا اعلان

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 19 Sept 2026

گرین لینڈ کی سیکیورٹی پر امریکہ کو مستقل اختیار، ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک نئے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ کی سیکیورٹی کے معاملے میں مستقل اختیار حاصل ہوگا۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کے تحت رہے گا اور اس کی خودمختاری ختم نہیں ہوگی۔
 
ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا کہ امریکہ کو گرین لینڈ اور امریکہ کی سیکیورٹی کے لیے وہاں ضروری اقدامات کرنے کا مستقل اختیار حاصل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا عمل شروع کرے گا۔

معاہدہ کیا ہے؟

اس معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق امریکہ کو گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے اور ضرورت پڑنے پر مزید فوجی اڈے بنانے کی گنجائش مل سکتی ہے۔
 
معاہدے کے تحت امریکہ کے مخالف ممالک، خصوصاً روس اور چین، کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ بنانے یا فوجی موجودگی قائم کرنے سے روکا جائے گا، جبکہ بعض حساس شعبوں میں ایسی سرمایہ کاری کو بھی محدود کیا جائے گا جسے امریکہ کے لیے سیکیورٹی خطرہ سمجھا جائے۔
 
امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں فوجی موجودگی رکھتا ہے۔ امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی سے متعلق معاہدہ 1951 سے موجود ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو وہاں فوج رکھنے کی اجازت ہے اور اس کی کوئی مقررہ میعاد ختم ہونے کی تاریخ نہیں ہے۔
 
امریکی حکام کے مطابق نئے معاہدے کے تحت غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے یا فوجی موجودگی رکھنے سے روکا جائے گا۔ امریکہ کو ضرورت پڑنے پر گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی اور اڈوں میں اضافے کی گنجائش بھی مل سکتی ہے۔

گرین لینڈ کس کے پاس رہے گا؟

اس معاہدے سے گرین لینڈ امریکہ کا حصہ نہیں بن رہا۔ گرین لینڈ بدستور ڈنمارک کی بادشاہت کے تحت رہے گا۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ معاہدہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے بھی کہا ہے کہ معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات کو تسلیم کرتا ہے۔

معاہدے پر کب دستخط ہوں گے؟

ڈنمارک کے مطابق امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتیں اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران معاہدے پر دستخط کرنے کی توقع ہے۔ اسے نافذ کرنے کے لیے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی پارلیمانوں کی منظوری بھی درکار ہوگی۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

ٹرمپ کئی عرصے سے گرین لینڈ کو امریکہ کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کی جغرافیائی حیثیت امریکہ کی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے اور روس، چین جیسے ممالک کو وہاں اپنا اثر بڑھانے سے روکنا ضروری ہے۔
 
ٹرمپ نے ماضی میں گرین لینڈ کو امریکہ کے ساتھ شامل کرنے کی بات بھی کی تھی اور ڈنمارک پر اس حوالے سے دباؤ ڈالا تھا۔ اس معاملے پر امریکہ اور ڈنمارک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
 
اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، نیا معاہدہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کے بجائے وہاں امریکی سیکیورٹی اور فوجی موجودگی بڑھانے سے متعلق ہے۔ معاہدے کی مکمل شرائط سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ امریکہ کو عملی طور پر کتنے نئے اختیارات حاصل ہوں گے۔