Tuesday, October 20, 2026 | 08 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران نے75ہزارافراد کو ہلاک کیا: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

ایران نے75ہزارافراد کو ہلاک کیا: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 20 Oct 2026

ایران نے75ہزارافراد کو ہلاک کیا: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
 ایران  تنازع کے دوران نیٹو سے مدد مانگنا محض ایک امتحان
نیٹو اتحادی اس امتحان میں ناکام رہے:امریکی صدر   ٹرمپ 
کنساس میں انتخابی مہم کےدوران ٹرمپ کے اہم ریمارکس
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے خلاف سنسنی خیز تبصرے کیے ہیں۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ آٹھ ماہ میں کم از کم 75 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع کھڑا ہونے پر انہوں نے نیٹو ممالک سے جو مدد مانگی ہے وہ محض ایک امتحان تھا۔
 
وسط مدتی انتخابی ریلی  سےخطاب 
ٹرمپ نے کینساس میں اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابی مہم کے ایک حصے کے طور پر ایک ریلی سے خطاب کیا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے گزشتہ آٹھ ماہ میں کم از کم 75,000 مظاہرین کو ہلاک کیا۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ایران میں مظاہرے کیوں جاری نہیں ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ جب آپ کو سڑک کے آخر میں مشین گنوں سے گولی مار کر ہلاک کیا جا رہا ہو تو احتجاج کرنا مشکل ہے۔
 
 نیٹو اتحادی امتحان میں ناکام
نیٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئے"ہم نے ایران کے ساتھ جنگ ​​کے دوران مدد مانگی تھی۔ دراصل ہمیں اس مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن میں ان کا امتحان لینا چاہتا تھا۔" ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکہ نیٹو پر بہت زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اتحادیوں کی جانب سے منفی ردعمل آیا ہے اور وہ مشکل وقت میں مدد کے لیے آگے نہیں آئے۔
 
ٹرمپ نے کیا ایک اور دعویٰ
صدر ٹرمپ نے اس ریلی میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی فوجی کاروائیوں میں ایران کی فضائیہ اور جنگی طیاروں کے بیڑے کو تباہ کر دیا گیا ہے اور ایران کی پہلی اور دوسری صف کی اعلیٰ قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اس جنگ سے فوری طور پر باہر نکل سکتا ہے۔
 
ہلاکتوں کی تعداد آزادنہ طورپر تصدیق نہیں 
 ٹرمپ کی جانب سے بتائی گئی 75,000 ہلاکتوں کی اس تعداد کی کسی بھی آزاد یا بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد اس سے کہیں کم (کچھ ہزار) بتائی گئی ہے