امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 ستمبر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنا چاہتا ہے کیونکہ اس آبی گزرگاہ کی بند کرنےسے شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے دنیا کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش میں آبنائے ہرمز کو بند کیا، لیکن اس فیصلے سے اسے خود مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایرانی دھمکیوں اور آبی گزرگاہ میں جہازوں پر حملوں کے باعث وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی۔
ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے کیونکہ اسے وہاں سے ہونے والی آمدنی میں شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے بند کرکے دراصل اپنا ہی نقصان کیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ایک بڑی بحری ناکہ بندی قائم کی ہے، جبکہ امریکی فوج تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں رہنمائی بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی فوجی تاریخ کی سب سے بڑی ناکہ بندی قرار دیا۔
ایران نے سات روزہ منصوبہ پیش کیا
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران نے پیشکش کی تھی کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں اٹھائے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے اور خطے میں جنگ بندی پر عمل کرے، تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے اور امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات بھی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ضروری شرائط پوری ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ایران نے اپنی شرائط برقرار رکھیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط اب بھی برقرار ہیں۔ ان کے مطابق ایران اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے باضابطہ موقف کا انتظار کر رہا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب کوئی بھی قدم ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجود تعطل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کردی
ایران کی سات روزہ تجویز کے جواب میں ٹرمپ نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی تجویز امریکہ تک قطر کے ذریعے پہنچائی تھی اور اب ایران امریکی باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اسی وجہ سے وہاں جہاز رانی میں رکاوٹ اور اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کا اثر خطے کے ساتھ عالمی توانائی اور تجارت پر بھی پڑ رہا ہے۔







