Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • منی پور میں دو ناگا شہری ہلاک، دو زخمی

منی پور میں دو ناگا شہری ہلاک، دو زخمی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 27 Sept 2026

منی پور میں دو ناگا شہری ہلاک، دو زخمی
منی پور میں تشدد کے ایک تازہ واقعے میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ناگا برادری کے دو شہری ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ ہفتے کی دوپہر تقریباً 3 بجے Kalenjang گاؤں میں پیش آیا۔
 
 مہلوکین کی شناخت راکی ماؤ اور کمار پومئی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق ضلع سیناپتی کے مختلف دیہات سے تھا۔ زخمیوں کی شناخت 33 سالہ Adani Manio اور 49 سالہ آشیہو ثانی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کو علاج کے لیے سیناپتی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ہلاک افراد کی لاشیں سیناپتی ڈسٹرکٹ اسپتال لے جائی گئیں۔
 
فائرنگ کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور واقعے کی تحقیقات شروع کیں۔ حملے کی وجہ اور ذمہ دار افراد کے بارے میں فوری طور پر حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض مقامی ذرائع نے مشتبہ کوکی عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کا الزام لگایا، اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

دو دن میں ناگا شہریوں پر دوسرا حملہ

یہ واقعہ ضلع Kamjong کے Pilong گاؤں میں چار ناگا شہریوں کی ہلاکت کے صرف دو دن بعد پیش آیا۔ 24 ستمبر کی رات بھارت-میانمار سرحد کے قریب ہونے والے اس حملے میں چار ناگا شہری مارے گئے تھے۔ تازہ واقعے کے بعد ناگا شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ ستمبر میں منی پور کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے حملے کی مذمت کی

منی پور کے وزیر اعلیٰ یُمنام کھیم چند سنگھ نے دو شہریوں کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے کی مذمت کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے حملے کو بے گناہ افراد کے خلاف بزدلانہ تشدد قرار دیا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کیے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ واقعے کے وقت وزیر اعلیٰ علاقے میں موجود تھے، جہاں وہ ڈان باسکو کالج، مرام کی سلور جوبلی تقریبات میں شریک تھے۔
 

واقعے کے وقت ناگا تنظیم کی ناکہ بندی معطل

 
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب یونائیٹڈ ناگا کونسل (UNC) نے مرکزی حکومت، منی پور حکومت اور UNC کے درمیان گوہاٹی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد اپنی اقتصادی ناکہ بندی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
 
UNC نے 17 مئی کو چھ ناگا افراد کے مبینہ اغوا کے بعد اقتصادی ناکہ بندی شروع کی تھی۔ بعد میں ان چھ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے معاملے پر تنظیم نے اپنے مطالبات کے لیے احتجاج جاری رکھا تھا۔ 26 ستمبر کو سہ فریقی مذاکرات کے بعد UNC نے ناکہ بندی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔