Friday, October 09, 2026 | 26 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • یوپی ٹیچر بھرتی کیس میں نیا موڑ، ملازمت کر رہے بی ایڈ امیدواروں کی حیثیت پر بحث

یوپی ٹیچر بھرتی کیس میں نیا موڑ، ملازمت کر رہے بی ایڈ امیدواروں کی حیثیت پر بحث

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 08 Oct 2026

یوپی ٹیچر بھرتی کیس میں نیا موڑ، ملازمت کر رہے بی ایڈ امیدواروں کی حیثیت پر بحث
اتر پردیش میں 69 ہزار اسسٹنٹ اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ تازہ سماعت کے دوران B.Ed اور BTC امیدواروں کی اہلیت کا معاملہ اہم موضوع بن کر سامنے آیا۔ عدالت نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بھرتی کے وقت اہل قرار دیے گئے B.Ed امیدواروں کو بعد میں کس بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب ان میں سے ہزاروں امیدوار پہلے ہی ملازمت کر رہے ہیں۔ جسٹس ایس بی این بھٹی اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے منگل کو تقریباً دو گھنٹے تک معاملے کی سماعت کی۔ اس دوران ریزرویشن کے ساتھ ساتھ B.Ed امیدواروں کے انتخاب اور پہلے سے ملازمت کر رہے اساتذہ کی موجودہ حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
 
اتر پردیش حکومت نے 4 دسمبر 2018 کو پرائمری اسکولوں میں 69 ہزار اسسٹنٹ اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کیا تھا۔ اس کے بعد 6 جنوری 2019 کو اسسٹنٹ ٹیچر ریکروٹمنٹ امتحان (ATRE) منعقد ہوا۔ جنرل زمرے کے امیدواروں کے لیے 65 فیصد جبکہ ریزروڈ زمرے کے امیدواروں کے لیے 60 فیصد پاسنگ مارکس مقرر کیے گئے تھے۔ ان نمبروں کو ریزروڈ زمرے کے امیدواروں نے عدالت میں چیلنج کیا، لیکن ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو خارج کر دیا۔ بعد میں امتحان کا نتیجہ جاری کیا گیا اور تقریباً 1.40 لاکھ امیدوار کامیاب قرار پائے۔ اس کے بعد بھرتی میں ریزرویشن کے اصولوں پر سوال اٹھنے لگے اور الزام لگایا گیا کہ مخصوص زمروں کو مقررہ کوٹے کے مطابق فائدہ نہیں دیا گیا۔
 
بھرتی کے آغاز میں B.Ed ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو بھی اہل قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے درخواستیں دیں، امتحان میں شرکت کی اور بڑی تعداد میں امیدوار منتخب بھی ہوئے۔ بعد میں پرائمری اساتذہ کی بھرتی میں B.Ed امیدواروں کی اہلیت کا معاملہ عدالت میں زیر بحث آیا۔ BTC امیدواروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پرائمری سطح پر تدریس کے لیے ان کی تربیتی قابلیت زیادہ موزوں ہے اور B.Ed کو اس کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دوسری جانب B.Ed امیدواروں کا کہنا ہے کہ بھرتی کے وقت انہیں اہل قرار دیا گیا تھا، انہوں نے امتحان پاس کیا اور کئی امیدوار انتخاب کے بعد سے بطور استاد کام بھی کر رہے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ بعد میں ان کی اہلیت کو کس بنیاد پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
 
سماعت کے دوران سینئر وکیل سنجے ہیگڈے نے دلیل دی کہ اگر سلیکشن لسٹ پر دوبارہ غور کیا جاتا ہے تو B.Ed امیدواروں کو خارج کرکے BTC امیدواروں کو اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ B.Ed امیدواروں کو کس بنیاد پر خارج کیا جائے گا، جب انہوں نے بھرتی کے عمل میں حصہ لیا، امتحان دیا اور تقریباً 35 ہزار امیدوار منتخب بھی ہوئے۔ بنچ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جن امیدواروں نے BTC امیدواروں سے زیادہ نمبر حاصل کیے، انہیں صرف تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر کیسے خارج کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب ATRE کے نمبر انتخاب میں اہم رہے ہوں۔
 
 
ریزروڈ زمرے کی جانب سے سینئر وکیل منیش گوسوامی نے دلیل دی کہ ATRE محض اہلیت کا امتحان تھا اور اسے انتخاب کا امتحان نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق امتحان پاس کرنے سے تقرری کا حق خود بخود حاصل نہیں ہوتا۔ سماعت کے دوران اتر پردیش ریزرویشن ایکٹ 1994 اور اس کے قواعد کا بھی حوالہ دیا گیا۔ 23 مارچ 1994 کی ایک دستاویز پر بھی بحث ہوئی، جس کی نوعیت کے بارے میں عدالت نے سوال اٹھایا اور بظاہر اسے باضابطہ حکومتی حکم کے بجائے ایک خط یا دفتری ہدایت قرار دیا۔
 
درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ 69 ہزار آسامیوں کی بھرتی میں ریزرویشن کے مقررہ اصولوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ OBC زمرے کو 27 فیصد کے بجائے 3.6 فیصد اور SC زمرے کو 21 فیصد کے بجائے 16.2 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ 13 اگست 2024 کو لکھنؤ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ریزرویشن سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر سلیکشن لسٹ کو منسوخ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نئی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور اب B.Ed، BTC امیدواروں کی اہلیت، ریزرویشن اور پہلے سے ملازمت کر رہے اساتذہ کا مستقبل اس تنازع کے اہم پہلو بن گئے ہیں۔