امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیڈرل ریزرو پر شرح سود کم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم شرح سود ادا کرنی چاہیے، کیونکہ بلند شرح سود کی وجہ سے حکومت پر قرض کے سود کا بڑا مالی بوجھ پڑتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کینیڈا، میکسیکو اور سوئٹزرلینڈ سمیت مختلف ممالک کو اربوں ڈالر فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض ممالک میں بنیادی شرح سود امریکہ کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سوئٹزرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شرح سود امریکہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہتی ہے، جبکہ امریکہ میں شرح سود تقریباً 3.5 فیصد کے آس پاس رہی ہے۔
ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو پر زور دیا کہ وہ افراط زر کے اعداد و شمار یا دیگر معاشی اشاریوں سے قطع نظر شرح سود میں نمایاں کمی کرے۔ ان کے مطابق قرض لینے کی موجودہ لاگت امریکی حکومت کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن رہی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود کی وجہ سے امریکہ کو ہر سال سود کی ادائیگی میں سینکڑوں ارب ڈالر اضافی خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر شرح سود کم کی جائے تو حکومت کے قرض پر سود کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ فیڈرل ریزرو سے شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ تاہم مرکزی بینک عام طور پر شرح سود کے فیصلے افراط زر، روزگار، اقتصادی سرگرمی اور دیگر معاشی اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ شرح سود میں کمی سے قرض لینا سستا ہو سکتا ہے اور کاروباری و معاشی سرگرمیوں کو سہارا مل سکتا ہے، تاہم مرکزی بینک کے لیے افراط زر کو قابو میں رکھنا بھی اہم ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان سے ایک بار پھر امریکی صدر اور فیڈرل ریزرو کے درمیان شرح سود کے معاملے پر اختلافِ رائے نمایاں ہوا ہے۔
مغربی تہذیب فیصلہ کن موڑ پر: مارکو روبیو
وہیں دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مغربی تہذیب اس وقت ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور خاص طور پر یورپی ممالک کو موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اداروں اور اتحادوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔روبیو نے کہا کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں مختلف ممالک کو مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یورپ کو اپنی تاریخی اور فکری جڑوں کی طرف دوبارہ توجہ دینی چاہیے اور قدیم یونانی اقدار سے حاصل ہونے والے ورثے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے اداروں اور اتحادوں کو نئے انداز میں مضبوط کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں مغربی ممالک کے درمیان تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ روبیو نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ یورپ طویل عرصے کی غفلت سے باہر نکل سکتا ہے اور اپنے اندر موجود اس جذبے کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے جو ہزاروں سال پہلے اس خطے میں موجود تھا۔انہوں نے یورپ کی تاریخی شناخت اور اس کے فکری ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مغربی ممالک کو اپنی بنیادی اقدار اور باہمی تعاون پر دوبارہ توجہ دینی چاہیے۔روبیو کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور یورپی ممالک عالمی سلامتی، دفاع اور بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل سمیت مختلف معاملات پر اپنی پالیسیوں پر غور کر رہے ہیں۔







