Saturday, September 26, 2026 | 12 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر پر ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، یوگیندر یادو سمیت 40 سے زائد مظاہرین حراست میں

جنتر منتر پر ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، یوگیندر یادو سمیت 40 سے زائد مظاہرین حراست میں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 25 Sept 2026

جنتر منتر پر ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، یوگیندر یادو سمیت 40 سے زائد مظاہرین حراست میں
الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل SIR کو لے کر اپوزیشن اور مختلف تنظیموں کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی کال کے درمیان جمعہ کو دہلی کے جنتر منتر پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے یوگیندر یادو سمیت 40 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ AISA کے کارکنان سماجی کارکن انجلی بھاردواج، وکیل پرشانت بھوشن اور دیگر افراد کے ساتھ احتجاج میں شرکت کے لیے جنتر منتر پہنچے تھے۔ تاہم پولیس نے مظاہرین کو احتجاج کے لیے مختص مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔ پولیس نے بیریکیڈز لگا کر مظاہرین کو تقریباً 150 میٹر پہلے ہی روک لیا اور اس کے بعد انہیں ایک ایک کرکے حراست میں لینا شروع کر دیا۔
 
مظاہرین کو حراست میں لینے کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار مظاہرین کو اٹھا کر بسوں میں سوار کرتے نظر آئے۔ ابتدا میں AISA کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جس کے بعد احتجاج میں شامل دیگر رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے احتجاج کے مقام سے سڑک کو مکمل طور پر خالی کرا دیا اور مظاہرین کو وہاں جمع رہنے کی اجازت نہیں دی۔ خواتین مظاہرین اور طلبہ کو بھی بعد میں حراست میں لے کر الگ بس میں منتقل کیا گیا۔ احتجاج کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
 
اس احتجاج میں یوگیندر یادو کے علاوہ AISA کی نیہا بورا، RJD کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا، CPI(ML) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، پرشانت بھوشن، انجلی بھاردواج اور نندیتا نارائن سمیت کئی سماجی کارکنوں اور سیاسی و عوامی شخصیات نے شرکت کی۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا بھی احتجاج میں شامل ہونے کے لیے جنتر منتر پہنچی تھیں، تاہم مظاہرین کو حراست میں لینے کا عمل شروع ہونے سے پہلے وہ وہاں سے چلی گئیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سخت کارروائی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
 
انجلی بھاردواج نے میڈیا سے گفتگو میں SIR کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا عمل خامیوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ احتجاجی تنظیموں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔ AISA کے مطابق یہ احتجاج ایک میڈیا رپورٹ کے بعد منعقد کیا گیا، جس میں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں اور انتخابی عمل سے متعلق خدشات کو دور کیا جانا چاہیے اور شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تاہم، احتجاج میں لگائے گئے الزامات اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری سے متعلق دعووں کی حتمی تصدیق یا تردید متعلقہ حکام کی جانب سے کی جانی باقی ہے۔