• News
  • »
  • قومی
  • »
  • بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک بیمار، ڈاکٹروں کے بیچ بڑھی مزید تشویش

بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک بیمار، ڈاکٹروں کے بیچ بڑھی مزید تشویش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 19, 2026 IST

بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک بیمار، ڈاکٹروں کے بیچ بڑھی مزید تشویش
 
 
  سونم وانگچک کی طویل بھوک ہڑتال کے دوران طبیعت خراب ہونے لگی ہے۔ دہلی کے صفدر جنگ اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق وانگچک کو پانی کی کمی (Dehydration) کی علامات ظاہر ہوئی ہیں، جس کے باعث انہیں فوری طور پر سیال اور الیکٹرولائٹ تھراپی دینے کی ضرورت ہے۔  وانگچک اور ان کے اہل خانہ نے اب تک ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ علاج لینے سے انکار کیا ہے۔ صفدر جنگ اسپتال اور وی ایم ایم سی کی جانب سے جاری تازہ بیان میں بتایا گیا کہ وانگچک کو اسپتال میں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ان کی نبض، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح فی الحال معمول کے مطابق ہے اور وہ ہوش میں ہیں، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق خون کے کچھ ٹیسٹ میں معمولی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
 
 ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک بھوک ہڑتال کرنے کی وجہ سے ان کے جسم پر دباؤ بڑھا ہے، جس سے صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ انہیں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے منہ کے ذریعے یا نس کے ذریعے مائعات (Fluids)، الیکٹرولائٹس اور ضروری ادویات دی جائیں۔
 
اس معاملے میں ایمس دہلی کے ایک طبی ڈاکٹر  نے بھی وانگچک کا معائنہ کیا اور علاج کرنے والی ٹیم کے اس مشورے سے اتفاق کیا کہ انہیں فوری طور پر ڈی ہائیڈریشن تھراپی کی ضرورت ہے۔ ایمس کا ایک ڈاکٹر بھی وانگچک کی نگرانی کرنے والی طبی ٹیم میں شامل ہو گیا ہے۔ اسپتال کے مطابق وانگچک نے نس کے ذریعے مائعات، او آر ایس (Oral Rehydration Solution) اور دیگر ادویات لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے اہل خانہ نے بھی اب تک تجویز کردہ علاج کے لیے رضامندی نہیں دی ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈی ہائیڈریشن کی کمی کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو مستقبل میں صحت کی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے طبی ٹیم مسلسل وانگچک اور ان کے خاندان سے بات کر رہی ہے تاکہ انہیں علاج کے لیے رضامند کیا جا سکے۔
 

NEET تنازعے کے خلاف 28 جون سے بھوک ہڑتال

سونم وانگچک نے 28 جون سے NEET امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس تنازعے سے جڑے طلبہ کی اموات کے خلاف احتجاج کی حمایت میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ بھوک ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس انہیں صفدر جنگ اسپتال لے کر پہنچی۔ وانگچک کے ساتھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے تین کارکن بھی غیر معینہ بھوک ہڑتال پر ہیں۔ مظاہرین NEET امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
 
دوسری جانب، CJP کے بانی ابھیجیت ڈیپکے نے پولیس کاروائی کے بعد الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف سخت کاروائی کی گئی،  اس الزام پر حکام کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسپتال کے مطابق، وانگچک کی حالت اس وقت مستحکم ہے، لیکن ڈاکٹروں نے طویل بھوک ہڑتال اور ڈی ہائیڈریشن کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کو دیکھتے ہوئے فوری طبی علاج کی ضرورت پر زور دیا ہے۔