مرکزی حکومت کے وکست بھارت شکشہ ادھیشتھان (VBSA) بل 2025 پر غور کرنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کی پیر کو ہونے والی میٹنگ منسوخ کر دی گئی، جس کے باعث بل کی مسودہ رپورٹ کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
حکومت نے اس بل کو پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں پیش کرنے کی تیاری کی ہے۔ یہ بل ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی تجویز پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (AICTE) اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کو ختم کرکے ان کی جگہ ایک واحد اعلیٰ تعلیمی ریگولیٹری کمیشن بنانے کی بات کی گئی ہے۔ جے پی سی کو اس بل کی جانچ کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی، لیکن میٹنگ منسوخ ہونے کی وجہ سے رپورٹ ابھی مکمل نہیں ہو سکی۔
دونوں بلوں پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے کچھ ارکان نے بھی اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مرکزی حکومت آئندہ اجلاس میں حد بندی (Delimitation) بل دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، جسے منظور کرانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو اپنے اتحادیوں اور کچھ علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی، اسی لیے حکومت ایسے مزید بل پیش نہیں کرنا چاہتی جن سے اتحادیوں میں اختلاف پیدا ہو۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو اہم اور بحث میں رہنے والے بلوں پر غور کرنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے صرف دو دن پہلے اپنی رپورٹس کو منظور کرنے کا عمل روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک بل آئین میں تبدیلی سے متعلق ہے، جبکہ دوسرے بل پر یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کہیں یہ آئین کی حدود سے باہر تو نہیں ۔
اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جے پی سی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس بل کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے معاملات میں مرکزی حکومت کے اختیارات بہت زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔کمیٹی نے ریاستوں سے زیادہ مشاورت اور تعلیمی اداروں کی خود مختاری کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی کی مسودہ رپورٹ میں بل کی کچھ اہم شقوں میں تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے۔ ان شقوں پر این ڈی اے کے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں سمیت کئی حلقوں نے اعتراضات اٹھائے تھے، خاص طور پر مرکز کو زیادہ اختیارات دینے، ریگولیٹری اداروں پر کنٹرول اور فنڈنگ کے معاملات پر۔