تلنگانہ میں نئے تعلیمی سال 2026-27 کے آغاز کو ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، لیکن کئی سرکاری اور بلدیاتی اسکولوں کے طلبہ کو ابھی تک نئے یونیفارم نہیں مل سکے ہیں۔ طلبہ اب بھی پرانے یونیفارم پہن کر اسکول جانے پر مجبور ہیں کیونکہ کئی اضلاع میں یونیفارم کے لیے درکار کپڑا بھی نہیں پہنچا ہے۔
33 میں سے 19 اضلاع میں کپڑا نہیں پہنچا
ایک رپورٹ کے مطابق ریاست کے 33 اضلاع میں سے 19 اضلاع میں ابھی تک یونیفارم سلائی کرنے کے لیے کپڑا فراہم نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ یہ کام مئی تک مکمل ہونا تھا۔حکومت نے طلبہ کو یونیفارم کے دو دو جوڑے فراہم کرنے کے لیے تقریباً 1.13 کروڑ میٹر کپڑے کی ضرورت بتائی تھی، لیکن 23 جولائی تک صرف 21.01 لاکھ میٹر کپڑا ہی فراہم کیا جا سکا، جو ضرورت کا تقریباً 18.5 فیصد ہے۔
کئی اضلاع میں سپلائی کا انتظار
رپورٹ کے مطابق جگتیال، کاماریڈی، نظام آباد، محبوب نگر، عادل آباد، کریم نگر، نرمل، میدک، سنگاریڈی اور دیگر کئی اضلاع میں یونیفارم کے لیے کپڑے کی فراہمی میں تاخیر ہوئی ہے۔ کچھ اضلاع کو ضرورت کا صرف 40 سے 50 فیصد کپڑا ہی مل سکا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مینوفیکچررز کی جانب سے سپلائی میں تاخیر ہوئی، لیکن کپڑا ملتے ہی اسے منڈل سطح اور پھر اسکولوں تک پہنچانے کا کام تیزی سے کیا جا رہا ہے۔
نئے تعلیمی سال میں یونیفارم کا رنگ تبدیل
تعلیمی سال 2026-27 کے لیے طلبہ کے یونیفارم کے رنگ میں بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ پرانے میرون رنگ کی جگہ سرخ رنگ اور راکھ گرے رنگ کی جگہ ہلکا نیلا اور نیوی بلیو رنگ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چھٹی جماعت اور ساتویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہاف پینٹ کے بجائے پتلون دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ شرٹ میں تبدیلی نہیں کی گئی۔
کچھ اسکولوں میں یونیفارم فراہم کر دیے گئے
حکومت کے تحت چلنے والے کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (KGBV)، شہری رہائشی اسکولوں اور (TREIS) اسکولوں کے طلبہ کو یونیفارم فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان اسکولوں میں آسانی سے دستیاب کپڑے کی وجہ سے سلائی کا کام شروع کر دیا گیا اور طلبہ میں یونیفارم تقسیم بھی کیے گئے ہیں۔
ایک ماہ میں یونیفارم فراہم کرنے کی ہدایت
چیف سکریٹری سنجے جاجو نے جمعہ کو ضلع کلکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی اور ہدایت دی کہ ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو ایک ماہ کے اندر یونیفارم کے دو جوڑے فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے یونیفارم کی سلائی کا کام جلد مکمل کرنے اور نگرانی کے لیے ضلع اور منڈل سطح پر کمیٹیاں بنانے کی ہدایت بھی دی۔ چیف سکریٹری نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یونیفارم، جوتوں اور دیگر اسکول کٹس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے -