مدھیہ پردیش سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس میں کچھ لوگ مذہبی تقریب کے دوران ندی میں بڑے پیمانے پر دودھ بہا رہے ہیں۔ یہ ویڈیو صوبے کے سیہور ضلع میں نرمدا ندی کے کنارے واقع پاتالیشور مہادیو مندر کا بتایا جا رہا ہے، جہاں عقیدے کے نام پر دودھ کی بھاری مقدار دریا میں بہائی گئی۔البتہ اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ ٹینکر سے ندی میں دودھ بہا رہے ہیں۔
یہ ویڈیو شری دھونی والے دادا جی مہاراج (دادا جی بابا) کے 21 روزہ عظیم پروگرام کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ اس میں روزانہ نرمدا ماتا کا دودھ کا ابھیشیک کیا جاتا ہے۔ عام دنوں میں 151 لیٹر دودھ کا ابھیشیک ہوتا ہے، لیکن 21 دنہ پروگرام کے اختتام پر 11,000 لیٹر دودھ کا ابھیشیک کیا گیا۔
نرمدا ندی میں دودھ ارپیت(پیش) کرنے کی روایات تو رہی ہیں، لیکن اس طرح کی اتنی زیادہ مقدار میں دودھ کا استعمال ہمیشہ سے بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔
سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو دودھ جیسے نامیاتی مادے کے ندی میں جانے سے پانی کی جیو کیمیائی آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) تیزی سے بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے تحلیل شدہ آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر مچھلیوں اور دیگر پانی میں رہنے والے جانداروں پر پڑتا ہے۔ وہ دم گھٹنے سے مر سکتے ہیں۔
یہ صرف ماحولیاتی جرم نہیں بلکہ سماجی بے حسی بھی ہے۔ ایک طرف ملک میں لاکھوں بچے کھانے کی کمی اور کپوشن سے جوجھ رہے ہیں، دوسری طرف ہزاروں لیٹر دودھ اس طرح ضائع کیا جا رہا ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگ سوشل میڈیا پر شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔انسٹاگرام، یوٹیوب اور فیس بک پر لوگ اسے ندی کو آلودہ کرنے والا عمل قرار دے کر شدید تنقید کر رہے ہیں۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں غریب بچے مڈ-ڈے میل میں پانی والا دودھ پی رہے ہیں، وہاں اتنی بڑی مقدار میں دودھ ندی میں بہایا جا رہا ہے۔