نوئیڈا کے سیکٹر 49 تھانہ علاقے میں واقع برولا گاؤں اس وقت شدید خوف و ہراس اور سنسنی کی لپیٹ میں آ گیا جب ایک پی جی بلڈنگ سے آسام سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی مہک احمد کی خون میں لت پت لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتولہ کو دھار دار ہتھیار کے متعدد وار کر کے بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق، مقتولہ مہک احمد آسام کے ضلع ڈبروگڑھ کی رہائشی تھی۔ وہ تقریباً تین ہفتے قبل اپنے والدین یا اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر ڈبروگڑھ سے نوئیڈا پہنچ گئی تھی۔ یہاں آ کر وہ برولا گاؤں کے ایک پی جی میں اپنی پرانی سہیلی سنجنا کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ اسی عمارت کی پہلی منزل پر بہار کے ضلع کٹیہار کا رہائشی رمن بھی کرائے کے کمرے میں مقیم تھا۔
پولیس کی شروعاتی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 8 اگست کی رات مہک اور اس کی سہیلی سنجنا پی جی کی راہداری میں موجود تھیں۔ اسی اثنا میں رمن اپنے کمرے کے باہر کھلے عام شراب پی رہا تھا۔ سرعام شراب نوشی اور بدتمیزی کے اس معاملے پر مہک اور رمن کے درمیان شدید تلخ کلامی اور نوک جھونک ہوئی۔ اس وقت تو معامله کسی حد تک ٹھنڈا ہو گیا، لیکن اندر ہی اندر انتقام کی آگ سلگتی رہی۔
واقعے کے اگلے روز سنجنا کسی ذاتی کام کی غرض سے پی جی سے باہر گئی ہوئی۔ جب وہ واپس لوٹی تو مہک وہاں موجود نہیں تھی۔ سنجنا نے اس کے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن موبائل مسلسل بند آ رہا تھا۔ کئی گھنٹوں کی تلاشی اور انتظار کے بعد بھی جب مہک کا کوئی سراغ نہ ملا تو تشویش بڑھ گئی۔ اسی دوران پی جی میں رہنے والے دیگر رہائشیوں نے پہلی منزل پر واقع رمن کے کمرے سے شدید بدبو آنے کی شکایت کی۔ کمرے کے باہر بڑا تالا لٹک رہا تھا اور رمن بھی موقعے سے غائب تھا۔
حالات کو دیکھتے ہوئے پی جی انتظامیہ نے فوری طور پر مقامی پولیس کو اطلاع دی۔ سیکٹر 49 تھانے کی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر جب رمن کے کمرے کا تالا توڑا تو اندر کا منظر انتہائی ہولناک تھا۔ 19 سالہ مہک احمد کی لاش فرش پر خون میں لت پت پڑی تھی اور اس کے جسم پر دھار دار ہتھیار سے کیے گئے گہرے زخموں کے متعدد نشانات موجود تھے۔
پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے اور قتل کا باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ملزم رمن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو بہار اور دیگر مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔