Thursday, April 03, 2025 | 05, 1446 شوال
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • نیپال :بادشاہیت حکمرانی کا مطالبہ،پر تشدداحتجاج ، 2 افراد ہلاک، 100 سے زائد مظاہرین گرفتار

نیپال :بادشاہیت حکمرانی کا مطالبہ،پر تشدداحتجاج ، 2 افراد ہلاک، 100 سے زائد مظاہرین گرفتار

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Mia | Last Updated: Mar 29, 2025 IST     

image
نیپال میں گزشتہ روز ہوئےپرتشدد مظاہروں میں دو افراد ہلاک اور کم از کم 35 زخمی ہو گئے تھے ۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔دارالحکومت کھٹمنڈو کے مشرقی حصے میں تشدد کے بعد نافذ کرفیو آج اٹھا لیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی پولیس نے تشدد بھڑکانے، املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش زنی کے الزام میں 105 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی (آر پی پی) کے جنرل سکریٹری دھول شمشیر رانا اور پارٹی کے مرکزی رکن رویندر مشرا شامل ہیں۔اس کے علاوہ راجا شاہی کی حمایت کرنے والے کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔دریں اثنا، پولیس ایجی ٹیشن کے کنوینر درگا پرساد کی تلاش میں ہے۔ پولیس نے بتایا کہ پرساد اب بھی فرار ہے۔
 

کس طرح کے ہوئے نقصانات !

پولیس نے بتایا کہ جمعہ کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 53 پولیس اہلکار، 22 مسلح پولیس فورس کے ارکان اور 35 مظاہرین زخمی ہوئے ۔احتجاج کے دوران 14 عمارتوں کو آگ لگا دی گئی اور 9 کو نقصان پہنچا۔ 9 سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور 6 نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔مظاہرین نے ٹنکونے علاقے میں کانتی پور ٹیلی ویژن بھون اور اناپورنا میڈیا ہاؤس پر بھی حملہ کیا۔
 

احتجاج پرتشدد کیسے ہوا؟

جمعہ کے روز، راجا شاہی کی حامی کئی تنظیموں نے کھٹمنڈو میں طاقت کا مظاہرہ کیا۔احتجاج اس وقت پرتشدد ہو گیا جب تحریک کے کنوینر پرساد نے اپنی بلٹ پروف گاڑی کے ساتھ حفاظتی بند توڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد ہجوم آہستہ آہستہ بے قابو ہوتا گیا اور مظاہرہ پرتشدد ہو گیا۔اس دوران پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ حالات خراب ہوتے ہی کرفیو کا اعلان کر دیا گیا۔
 

مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں؟

مظاہرین نیپال میں راجا شاہی کی بحالی اور ہندو ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے اس حوالے سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان مظاہروں کو سابق بادشاہ گیانیندر بیر بکرم شاہ کی حمایت حاصل ہے۔ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ نیپال کے عوام بدعنوانی، معیشت اور مسلسل بدلتی ہوئی طاقت سے تنگ آچکے ہیں، اس لیے راجا شاہی  کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
 

نیپال میں راجا شاہی  کی تاریخ !

نیپال میں 2006 سے پہلے بادشاہت تھی۔ آخری بادشاہ گیانندرا نے آئین کو معطل کر دیا تھا اور 2005 میں پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا تھا۔ اس سے وہاں جمہوری بغاوت ہوئی۔بالآخر 2008 میں، نیپالی پارلیمنٹ نے نیپال کو بادشاہت سے ایک جمہوری ریاست میں تبدیل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی نیپال میں 240 سال پرانی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا۔تاہم اس کے بعد نیپال میں گزشتہ 16 سالوں میں 14 حکومتیں بن چکی ہیں۔