وقف بل لوک سبھا میں پیش کیا گیا ہے۔ ایوان میں بل پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان گرما گرم بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لوک سبھا میں بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن نے اعتراضات اٹھانا شروع کر دیئے، جس پر وزیر داخلہ امت شاہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ کانگریس کمیٹیاں صرف بل پر مہر لگاتی تھیں۔ وقف (ترمیمی) بل 2025 کو بحث اور منظوری کے لیے لوک سبھا میں پیش کرتے ہوئے مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے وقف ایکٹ میں تبدیلیاں کی تھیں اور اسے دوسرے قوانین سے بالاتر کردیا تھا، اس لیے اس میں نئی ترامیم کی ضرورت تھی۔
ٹی ایم سی ایم پی نے کی محالفت۔
وقف ترمیمی بل پر ایوان میں بات کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے کہا کہ حکومت اس بل کو لا کر غلط قدم اٹھا رہی ہے۔ یہ اقلیتی برادری کے لیے اچھا نہیں ہے۔ حکومت اس بل کو واپس لے۔ ٹی ایم سی نے وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کی ہے۔ بنرجی نے کہا کہ وقف املاک مسلمانوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وقف ترمیمی بل کے ذریعے تبدیلیاں اسلامی روایات اور ثقافت کے حوالے سے ایک سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے حقوق چھیننے کی کوشش ہے جو کہ غیر آئینی ہے۔
مذہبی اداروں میں مداخلت نہیں:کرن رجیجو
کرن رجیجو نے ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے ان مسائل پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جو وقف بل کا حصہ نہیں ہیں۔ بل پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، وزیر نے کہا کہ حکومت کسی مذہبی ادارے میں مداخلت نہیں کرے گی۔بتاتے چلیں کہ وقف ترمیمی بل پر لوک سبھا میں 8 گھنٹے کی بحث متوقع ہے۔ اپوزیشن نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ بل اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہے، جب کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے وقف املاک کا بہتر انتظام ہوگا۔
این ڈی اے کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل :
این ڈی اے کے اتحادیوں جیسے جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے بھی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کا اتحاد 'انڈیا' اس بل کی سخت مخالفت کرنے کے لیے تیار ہے۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے آئین کے خلاف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ این ڈی اے لوک سبھا میں تعداد کے لحاظ سے مضبوط پوزیشن میں ہے، جس کے 293 ارکان پارلیمنٹ ہیں، جب کہ بل کو منظور کرنے کے لیے 272 ووٹ درکار ہیں۔