• News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی فسادات 2020: ککڑڈوما عدالت کا بڑا فیصلہ، 13 مسلم ملزمان تمام الزامات سے بری

دہلی فسادات 2020: ککڑڈوما عدالت کا بڑا فیصلہ، 13 مسلم ملزمان تمام الزامات سے بری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 13, 2026 IST

دہلی فسادات 2020: ککڑڈوما عدالت کا بڑا فیصلہ، 13 مسلم ملزمان تمام الزامات سے بری
فروری 2020 میں ہونے والے شمال مشرقی دہلی کے پرتشدد فسادات کے سلسلے میں نیو عثمان پور تھانے میں درج ایک کیس میں ککڑڈوما عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 13 ملزمان کو الزامات سے باوقار بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ استغاثہ (پراسیکیوشن) کے مرکزی گواہ کی گواہی انتہائی مشکوک اور ناقابل اعتبار تھی، جس کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کو قصوروار ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔
 
بری ہونے والے 13 افراد کی فہرست:
 
نیو عثمان پور تھانے میں درج FIR کے تحت اس کیس میں عدالت کی جانب سے بری کیے گئے 13 ملزمان میں شامل ہیں:
 
محمد انس 
 
مبین 
 
محمد جاوید خان عرف شانُو 
 
فیصل 
 
شہزاد خان عرف مونٹو 
 
عمران خان
 
بادشاہ خان 
 
عرفان خان 
 
سراج خان 
 
ارمان عرف ارباز 
 
امان عرف سہیل
 
اقبال خان عرف سونو 
 
معظم
 
عدالتی کارروائی کے دوران سیشنز جج نے استغاثہ کے سب سے اہم اور بنیادی گواہ کی گواہی اور بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے تیکھے مشاہدات درج کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری گواہ کی ساکھ پر سنگین اور بنیادی سوالات موجود ہیں۔ گواہ کے بیانات وقت اور حالات کے ساتھ مسلسل بدلتے رہے، اور پولیس کے سامنے دیے گئے بیانات اور عدالتی بیان میں شدید تناقضات پائے گئے۔ عدالت نے کہا کہ جب کیس کے واحد یا مرکزی گواہ کی ساکھ خود شک کے دائرے میں ہو، تو اس قسم کے غیر معتبر، غیر مستند اور مشکوک ثبوت کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو جرم کا مرتکب ٹھہرانا آئینی و قانونی اصولوں کی شدید خلاف ورزی ہوگی اور اس سے ناانصافی کو فروغ ملے گا۔
 
مقدمے کی سماعت کے دوران دفاعی وکلا نے مضبوطی سے اپنا موقع پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی ایجنسی نے انتہائی جلد بازی اور یکطرفہ انداز میں کارروائی کی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کی جگہ پر ملزمان کی موجودگی، ان کا کسی برائے راست پرتشدد کارروائی میں ملوث ہونا، یا کسی بھی قسم کا مجرمانہ منصوبہ بنانا ثابت کرنے کے لیے نہ تو کوئی سائنسی ثبوت (سی سی ٹی وی فوٹیج یا لوکیشن ڈیٹا) فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی غیر جانبدارانہ عوامی گواہ پیش کیا گیا۔ تمام الزامات صرف پولیس کے ذریعے تیار کردہ اور نام نہاد گواہ کے زبانی بیان پر مبنی تھے۔
 
عدالت نے فریقین کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور ثبوتوں کا احاطہ کرنے کے بعد قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف قائم کردہ کیس کی بنیاد ہلکی اور بے بنیاد ثابت ہوئی ہے۔ لہٰذا، قانون کے بنیادی اصول "شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے" کے تحت تمام 13 افراد کو ہر قسم کے جرم اور الزامات سے آزاد کرتے ہوئے ان کی رہائی کا احکام صادر کیا گیا۔
 
یاد رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی کے مصطفیٰ آباد، اور بھجن پورہ سمیت متعدد علاقوں میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے حمایتیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم نے سنگین فسادات کی شکل اختیار کر لی تھی، جس میں 53 افراد جان بحق اور 200 سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔ ککڑڈوما عدالت کے اس حالیہ فیصلے کو پولیس کی تفتیش، گواہوں کی عدم جانچ اور استغاثہ کی خامیوں پر ایک بڑی قانونی چوٹ قرار دیا جا رہا ہے، جو آئندہ ایسے مقدمات پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔