کانوڑ یاترا کے اختتام کے بعد ہریدوار میں صفائی کا ایک بڑا چیلنج سامنے آیا ہے۔ رپورٹ مطابق اس سال تقریباً 4.8 کروڑ کانوڑیے گنگا سے مقدس پانی لینے کے لیے ہریدوار پہنچے، جس کے بعد گھاٹوں، میلے کے علاقوں، پارکنگ مقامات اور کانوڑ یاترا کے راستوں پر ہزاروں ٹن کچرا جمع ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق اس سال کانوڑیوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ گزشتہ سال تقریباً 4.5 کروڑ کانوڑیوں کے ہریدوار پہنچنے کی بات سامنے آئی تھی، جبکہ اس مرتبہ یہ تعداد تقریباً 4.8 کروڑ تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد کے نتیجے میں پلاسٹک، بوتلیں، کھانے پینے کے پیکٹ، استعمال شدہ کپڑے اور دیگر فضلہ بڑی مقدار میں سڑکوں اور عوامی مقامات پر جمع ہوگیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس دوران تقریباً 7,000 میٹرک ٹن کچرا جمع ہوا۔
خواتین کے چینج رومز میں بھی بوتلیں ملنے کا دعویٰ
صفائی کے دوران خواتین کے لیے بنائے گئے چینج رومز سے پیشاب سے بھری بوتلیں ملنے کی اطلاعات بھی ملی ہے۔ اس دعوے نے بڑے مذہبی اجتماعات کے دوران صفائی، حفظانِ صحت اور بنیادی سہولیات کے انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
ہریدوار میں ہر سال کانوڑ یاترا کے دوران کروڑوں افراد کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کے لیے نہ صرف ٹریفک اور سکیورٹی بلکہ کچرے کو جمع کرنے اور بروقت ٹھکانے لگانے کا انتظام بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
گنگا اور ماحولیات پر بھی سوال
ماحولیاتی اعتبار سے اتنی بڑی مقدار میں پیدا ہونے والا فضلہ تشویش کا باعث ہے۔ خاص طور پر پلاسٹک اور دیگر اشیا اگر بروقت صاف نہ کی جائیں تو یہ گنگا اور اردگرد کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اس صورتحال نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: جب کروڑوں عقیدت مند کسی مذہبی سفر کے لیے ایک شہر میں جمع ہوں تو کیا صفائی اور ماحول کے تحفظ کے لیے انتظامات بھی اسی پیمانے پر کیے جاتے ہیں؟