تمل ناڈو کو کاویری ندی کا پانی چھوڑنے کے معاملے پر کئی کنڑ تنظیموں کی جانب سے آج 13 اگست کو کرناٹک میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ یہ ہڑتال صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک 12 گھنٹے جاری رہے گا۔ کنڑ تنظیمیں تمل ناڈو کو کاویری کا پانی چھوڑنے کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں پہلے ہی پانی کی کمی ہے اور ریاست کو کسانوں کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے پانی کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
ہڑتال کے دوران اسکول، بینک اور اسپتال کھلے
ریاست کے ہڑتال باوجود کرناٹک میں کئی ضروری خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اسکول، بینک، اسپتال اور فارمیسی کھلے رہنے کی اطلاع ہے۔اسکولوں کی تنظیم نے بھی احتجاج سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے ریاست بھر کے اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ حکومت کی جانب سے چلنے والی بی ایم ٹی سی اور کے ایس آر ٹی سی بسیں بھی زیادہ تر علاقوں میں چل رہی ہیں، جبکہ بنگلورو کی میٹرو سروس بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔ احتجاج والے علاقوں میں ٹریفک کی رفتار متاثر ہونے اور کچھ راستوں پر گاڑیوں کا رخ تبدیل کیے جانے کا امکان ہے
بنگلورو میں سکیورٹی بڑھا دی گئی
ہڑتال کے پیش نظر بنگلورو پولیس نے شہر میں سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ اورکچھ اہم مقامات پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور پولیس گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیس نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے، لوگوں کو دھمکانے، ٹریفک روکنے یا ضروری خدمات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
کئی مظاہرین حراست میں
کاویری پانی کے مسئلے پر احتجاج کرنے والے کئی مظاہرین کو پولیس نے احتیاطی طور پر حراست میں لیا ہے۔ کوپل سمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے احتجاج کیا۔ کنڑ حامی کارکن وٹل ناگراج بھی احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست بھر کی 2 ہزار سے زیادہ تنظیمیں ہڑتال کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بیلگاوی سے چامراج نگر اور منگلورو سے کولار تک مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کچھ کنڑ تنظیموں کے درمیان احتجاج میں حصہ لینے کے معاملے پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، ناگراج کا کہنا ہے کہ ہڑتال اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گا۔
میسور میں بھی احتجاج
کاویری پانی کے معاملے پر میسور سمیت کئی شہروں میں کنڑ حامی کارکنوں نے احتجاج کیا۔ کچھ مقامات پر مظاہرین نے بسوں کو روکنے کی کوشش بھی کی، جس کے بعد پولیس نے سکیورٹی مزید سخت کردی۔ منڈیا ضلع میں بھی انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ ضلع کے کچھ علاقوں میں شراب کی فروخت، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے پر عارضی پابندی لگائی گئی ہے۔ شراب کی دکانوں، بازار اور بعض ریسٹورانوں کو بھی بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بنگلورو ہوائی اڈے پر معمول کی سرگرمیاں جاری
کرناٹک ہڑتال کا بنگلورو کے کیمپے گوڑا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بڑا اثر نہیں پڑا۔ ہوائی اڈے کے دونوں ٹرمینلز پر کام معمول کے مطابق جاری ہے۔مسافروں کے لیے کیب اور نجی گاڑیوں کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ ایپ کے ذریعے چلنے والی کیب سروسز بھی معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ احتیاط کے طور پر ہوائی اڈے کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
تمل ناڈو جانے والی بس سروس عارضی طور پر متاثر
بنگلورو اور تمل ناڈو کے درمیان بس سروس کو احتیاطی طور پر عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس کے باعث تمل ناڈو کے مختلف شہروں، جن میں اوٹی، ترووناملائی، سیلم، ویلور، کانچی پورم، کڈالور اور چدمبرم شامل ہیں، جانے والی بسوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب تمل ناڈو سے آنے والی کچھ سرکاری بسیں ہوسور کے راستے کرناٹک میں داخل ہوتی رہیں۔
ہڑتال کی اصل وجہ کیا ہے؟
کرناٹک ہڑتال کی بنیادی وجہ کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کا تنازع ہے۔ کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کرناٹک کو تمل ناڈو کے لیے کاویری کا پانی چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔حالیہ ہدایت کے مطابق کرناٹک کو 12 اگست سے 15 دن تک روزانہ 12 ہزار کیوسک پانی تمل ناڈو کے لیے چھوڑنا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف کسان رہنماؤں اور کئی کنڑ تنظیموں نے احتجاج شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی نے بھی کرناٹک کو 15 دن تک روزانہ 3,500 کیوسک پانی تمل ناڈو کو چھوڑنے کی ہدایت دی تھی۔ بعد میں کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اس ہدایت کو برقرار رکھا اور پانی چھوڑنے کی ہدایت دی۔
کرناٹک حکومت کا کیا کہنا ہے؟
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت عدالت کی ہدایات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کسانوں کے مفادات کا بھی تحفظ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست کے آبی ذخائر میں پانی کی موجودہ صورتحال پر نظر رکھ رہی ہے۔ حکومت پانی کی آمد اور ذخائر کی حالت کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا فیصلہ کرے گی۔ شیوکمار کے مطابق اس معاملے پر وزیر آبپاشی اور دیگر متعلقہ حکام سے بھی بات چیت کی جائے گی۔
ریاست میں حالات مجموعی طور پر قابو میں
کرناٹک ہڑتال کے دوران ریاست کے کئی حصوں میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں، لیکن اسکول، بینک، اسپتال، فارمیسی اور بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ خدمات معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ پولیس نے کچھ اہم علاقوں میں مزید پولیس اہلکار تعینات کر رکھی ہے اور مظاہرین پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کے دوران قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ یا تشدد سے گریز کریں۔