• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • فوڈ سیفٹی خلاف ورزی پر ڈومینوز کے خلاف بڑی کارروائی

فوڈ سیفٹی خلاف ورزی پر ڈومینوز کے خلاف بڑی کارروائی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 13, 2026 IST

فوڈ سیفٹی خلاف ورزی پر ڈومینوز کے خلاف بڑی کارروائی
مہاراشٹرا میں فوڈ سیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کے خلاف فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے بڑی کارروائی کی ہے۔ محکمہ نے ریاست بھر میں معروف فوڈ چینز کے آؤٹ لیٹس پر اچانک چھاپے مارے، جس کے بعد ڈومینوز پیزا کے چار آؤٹ لیٹس کو سیل کر دیا گیا اور ان کے فوڈ لائسنس بھی معطل کر دیے گئے۔ FDA کی جانب سے کی گئی اس خصوصی مہم کے دوران مجموعی طور پر 104 فوڈ چینز کے آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا گیا۔ اس کارروائی میں ڈومینوز پیزا کے ساتھ ساتھ KFC، Pizza Hut، Burger King، Starbucks اور McDonald's جیسے بڑے اور مشہور برانڈز کے آؤٹ لیٹس بھی شامل تھے۔
 
حکام کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ فوڈ چینز صارفین کو کھانا فراہم کرتے وقت مقررہ فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر کتنا عمل کر رہی ہیں۔ کھانے کی تیاری، اسٹوریج، صفائی ستھرائی اور دیگر حفاظتی ضوابط سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
 
معائنے کے بعد جہاں بھی قواعد کی خلاف ورزی سامنے آئی، وہاں متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ڈومینوز کے چار آؤٹ لیٹس کو سیل کرنا اور ان کے لائسنس معطل کرنا اس مہم کی سب سے نمایاں کارروائیوں میں شامل ہے۔ یہ کارروائی صارفین کے لیے بھی اہم سوال کھڑے کرتی ہے۔ آخر جن بڑے فوڈ برانڈز پر لوگ معیار اور صفائی کے حوالے سے اعتماد کرتے ہیں، کیا ان کے ہر آؤٹ لیٹ میں یکساں معیار برقرار رکھا جا رہا ہے؟ کیا صرف معروف برانڈ کا نام اس بات کی ضمانت ہو سکتا ہے کہ وہاں ملنے والا کھانا مکمل طور پر محفوظ ہے؟
 
دوسری جانب، FDA کی کارروائی سے یہ پیغام بھی واضح ہوتا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر بڑے برانڈز کو بھی جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، جن آؤٹ لیٹس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ان پر عائد مخصوص الزامات اور خلاف ورزیوں کی حتمی نوعیت متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔فوڈ سیفٹی ماہرین کے لیے بھی اس طرح کی کارروائیاں اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ روزانہ لاکھوں افراد ریسٹورنٹس اور فوڈ چینز سے کھانا خریدتے ہیں۔ ایسے میں حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی براہِ راست عوامی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔
 
مہاراشٹرا FDA کی یہ مہم ایک اہم پیغام دیتی ہے کہ فوڈ سیفٹی کے معاملے میں برانڈ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، قوانین کی پابندی ضروری ہے۔ صارفین بھی توقع کریں گے کہ ایسی کارروائیاں صرف چند آؤٹ لیٹس تک محدود نہ رہیں بلکہ باقاعدہ نگرانی کا مستقل نظام قائم کیا جائے، تاکہ بازار میں دستیاب کھانے کی اشیا کا معیار اور عوام کی صحت دونوں محفوظ رہ سکیں۔