Thursday, September 03, 2026 | 19 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • پٹنہ میں سرکاری اسکول کی ٹیچر کا مشتبہ قتل، گھر سے خون میں لت پت لاش برآمد

پٹنہ میں سرکاری اسکول کی ٹیچر کا مشتبہ قتل، گھر سے خون میں لت پت لاش برآمد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 03, 2026 IST

پٹنہ میں سرکاری اسکول کی ٹیچر کا مشتبہ قتل، گھر سے خون میں لت پت لاش برآمد
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک 46 سالہ سرکاری اسکول کی ٹیچر کی مشتبہ حالات میں موت کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ ٹیچر کی خون میں لت پت لاش ان کے گھر سے برآمد ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور لاش پر موجود زخموں کے نشانات کو دیکھتے ہوئے پولیس کو شبہ ہے کہ یہ قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ متوفیہ کی شناخت لکشمی دیوی کے طور پر کی گئی ہے، جو مسورہی کے ایک سرکاری سیکنڈری اسکول میں بطور ٹیچر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ یہ واقعہ مسورہی تھانہ علاقے کے وارڈ نمبر 29 میں پیش آیا۔ اہل خانہ نے بدھ، 2 ستمبر 2026 کی دوپہر پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
 
مسورہی (Masaurhi) کے ایس ڈی پی او-1 راگھو دیال کے مطابق، لکشمی دیوی کی لاش گھر کے اندر خون میں لت پت حالت میں ملی۔ پولیس کے ابتدائی معائنے میں ان کے سر اور کان کے قریب تیز دھار ہتھیار سے حملے کے نشانات پائے گئے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا ہوگا۔ پولیس نے بتایا کہ متوفیہ کے شوہر گیا ضلع میں بطور انجینئر تعینات ہیں۔ لکشمی دیوی اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں، تاہم دونوں بچے لاش ملنے سے ایک روز قبل اپنی نانی کے گھر گئے ہوئے تھے۔ ایسے میں پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ واردات کے وقت لکشمی دیوی گھر میں اکیلی تھیں یا گھر پر کوئی اور بھی موجود تھا۔
 
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ مقامی لوگوں اور پڑوسیوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واردات سے پہلے یا اس دوران کسی مشتبہ شخص کو علاقے میں دیکھا گیا تھا یا نہیں۔ پولیس واقعے سے جڑے تمام ممکنہ پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس سے موت کی اصل وجہ اور حملے کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکیں گی۔ تاہم، خبر لکھے جانے تک اہل خانہ کی جانب سے کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جس کے باعث باضابطہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔
 
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر معاملہ قتل کا معلوم ہوتا ہے، تاہم موت کی اصل وجہ اور واردات کے مکمل حالات تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔ اس واقعے نے علاقے میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ پولیس ملزمان یا واقعے کے ذمہ دار افراد تک پہنچنے کے لیے شواہد جمع کرنے میں مصروف ہے۔