Saturday, January 10, 2026 | 21, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • ’پونا مارگم‘ مہم کے تحت دنتے واڑہ میں 63 ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈال دیے

’پونا مارگم‘ مہم کے تحت دنتے واڑہ میں 63 ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈال دیے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 09, 2026 IST

’پونا مارگم‘ مہم کے تحت دنتے واڑہ میں 63 ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈال دیے
 چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں نکسل مخالف کاروائیوں اور امن کی کوششوں کو ایک اہم فروغ دینے کے لیے، 63 ماؤ نواز کیڈروں نے، جن میں 36  پر  1.19 کروڑ روپے کے انعامات بھی شامل ہیں، نے جمعہ کو سیکورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی کی۔ ہتھیار ڈالنے کی تقریب دنتے واڑہ کے ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ کے دفتر میں ہوئی۔ یہ کیڈر، جن میں 18 خواتین اور 45 مرد شامل ہیں، دربھ ڈویژن، جنوبی بستر، مغربی بستر، ماد ڈویژن اور پڑوسی اڈیشہ کے کچھ حصوں میں سرگرم تھے۔
 
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان میں 7 پرآٹھ لاکھ روپے انعام کے ساتھ، 7 پرپانچ لاکھ روپے، 8 پردو لاکھ روپے،11 پر ایک لاکھ روپے اور تین پر پچاس ہزار روپے انعام  تھے۔ بڑے پیمانے پر ہتھیار ڈالنے کو جاری 'پونا مارگم' مہم سے منسوب کیا گیا ہے،جس کا آغاز دنتے واڑہ پولیس نے ماؤنوازوں کو تشدد ترک کرنے اور مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے کیا ہے۔
 
انسپکٹرجنرل آف پولیس، بستر رینج، سندرراج پتلنگم نے اس اقدام کو خطے میں دیرپا امن، وقار اور جامع ترقی کی جانب ایک تبدیلی کا قدم قرار دیا۔تقریب میں سینئر افسران بشمول ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنز) سی آر پی ایف دنتے واڑہ رینج راکیش چودھری، پولیس سپرنٹنڈنٹ دنتے واڑہ گورو رائے، سی آر پی ایف کی 111ویں، 195ویں اور 230ویں بٹالین کے کمانڈنٹ، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رام کمار برمن اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
 
ڈی آر جی، بستر فائٹرز اور سی آر پی ایف جیسی فورسز نے کیڈروں کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔چھتیس گڑھ کی نکسل بازآبادکاری پالیسی کے تحت، ہر ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو 50,000 روپے کی امداد کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ، زرعی زمین اور ریاستی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ دیگر سہولیات بھی دی جائیں گی۔
 
ہتھیارڈالنے والوں میں نمایاں سینئر کیڈرز تھے جن کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے طویل ریکارڈ موجود تھے۔ ڈویژنل کمیٹی ممبران (DVCM) موہن کدٹی نے 2005 سے شروع ہونے والے متعدد حملوں میں حصہ لیا جن میں گھات لگا کر حملے اور قتل شامل تھے۔خاتون ڈی وی سی ایم سمترا کدتی، عرف دروپدی اور پیپلز پارٹی کمیٹی کی رکن (پی پی سی ایم) ہنگی، عرف انکیتا، کئی انکاؤنٹر اور آتش زنی کے معاملات سے منسلک تھیں۔دیگر آئی ای ڈی دھماکوں، گاڑیوں کو جلانے، سڑکوں کی ناکہ بندی اور پروپیگنڈا کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
 
حکام نے حکومت ہند، چھتیس گڑھ حکومت، دنتے واڑہ پولیس، سی آر پی ایف اور مقامی انتظامیہ کی مسلسل کارروائیوں اور جامع ترقی کے ذریعے امن قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے کو بستر کو نکسل فری بنانے کی جاری کوششوں میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔