روس کے دارالحکومت ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن کے قافلے میں شامل ایک کار میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی ۔اس واقعے نے صدر پوتن کے لیے اہم سکیورٹی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔3.55 لاکھ ڈالر (تقریباً 3.05 کروڑ روپے) مالیت کی' اورس لیموزین' کار پہلے پھٹ گئی اور پھر ایف ایس بی سیکرٹ سروس ہیڈ کوارٹر کے قریب ماسکو کی ایک سڑک پر آگ لگ گئی۔تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
گاڑی میں آگ لگنے کی ویڈیو منظر عام پر:
ڈیلی ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ اس میں گاڑی کو آگ کے شعلوں میں لپیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے، آگ انجن سے اندرونی حصے تک پھیل رہی ہے۔
گاڑی صدارتی پراپرٹی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تھی تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ گاڑی میں کون سوار تھا اور اچانک دھماکا کیسے ہوا۔اس واقعے میں ابھی تک کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔Vladimir Putin’s limo has burst into flames following a huge explosion
— Martha (@MGonigle) March 29, 2025
along a Moscow street.
One of the vehicles from what is believed to be the President’s “official car fleet” was consumed by flames near Moscow’s FSB secret service headquarters .. pic.twitter.com/GlgKQmX5p1
اس واقعے کے بعد صدر پوتن کی حفاظت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔
اس واقعے کے بعد صدر پوتن کی حفاظت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند روز قبل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے پوتن کی جلد موت کی پیش گوئی کی تھی۔ایسے میں لوگ شک کر رہے ہیں کہ شاید زیلنسکی نے پوتن کی موت کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ ان کے قافلے تک پہنچ گئے ہیں۔تاہم اس واقعے میں زیلنسکی کے کردار کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
زیلنسکی نے کیا پیش گوئی کی؟
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر ایک میڈیا چینل سے بات کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے پوتن کی صحت پر تبصرہ کیا تھا۔روسی صدر کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان صدر زیلنسکی نے کہا تھا، ولادیمیر پوتن جلد ہی مر جائیں گے۔ ان کی موت جلد ہی ایک حقیقت ہے۔اس پیشین گوئی کے چند روز بعد ہی پوتن کے قافلے میں گاڑی میں ہونے والا دھماکہ بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔