اترپردیش نیوز: اترپردیش کے امیٹھی میں چھوٹی سی بات پر دو لوگوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ اس معمولی تنازع پر ایک نوجوان نے دوسرے کو گولی مار دی۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر قریبی کلینک لے جایا گیا۔یہ واقعہ کل شام یعنی یکم اپریل کو امیٹھی کے اٹور گاؤں میں پیش آیا جہاں معمولی بات پر جھگڑا اس حد تک بڑھ گیا کہ گولی چل گئی۔ در اصل کار پارکنگ پر دو افراد میں جھگڑا ہوا جس میں نوجوان نے 27 سالہ عمران کو گولی مار دی۔ پولیس نے بدھ کو اطلاع دی کہ زخمی نوجوان عرفان ایک دکان کے پاس کھڑا تھا کہ تیز رفتاری سے آنے والی کار اس کے قریب آکر رکی جس سے دھول اڑ گئی۔
دھول اڑتے ہوئے عرفان غصے میں آگیا اور اس پر برہم ہو کر غصہ کیا جس کی وجہ سے گاڑی میں بیٹھے لوگوں سے جھگڑا ہوگیا۔ دونوں کے درمیان جھگڑا بڑھنے پر ملزمان نے عرفان پر گولی چلائی جو سیدھی اس کے جبڑے پر لگی۔ زخمی عرفان کو فوری طور پر جگدیش پور کے پبلک کلینک لے جایا گیا، جہاں سے ڈاکٹروں نے اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے لکھنؤ کے ٹراما سینٹر ریفر کر دیا۔ جگدیش تھانے کے اے ایس پی ہریندر کمار نے بتایا ہے کہ پولیس نے واقعے پر کارروائی شروع کردی ہے۔ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جارہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت کی جاسکے۔
دکان سے نوجوان کی نعش برآمد!
دارالحکومت کے موتی بازار میں واقع ٹماٹر گلی میں ایک دکان سے ایک نوجوان کی لاش مشتبہ حالت میں ملی۔ متوفی کی شناخت مدن کے طور پر ہوئی ہے جو کوٹی کناسر کا رہنے والا ہے اور دہرادون کے ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا۔متوفی کے گلے میں رومال لپیٹا گیا تھا تاہم جسم پر کسی قسم کی چوٹ یا حملے کے نشانات نہیں ملے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی جانچ شروع کردی۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ متوفی ایک لڑکی سے رابطے میں تھا، جس نے اسے ایک ماہ قبل چھوڑ دیا تھا۔
پولیس اس زاویے سے بھی جانچ کر رہی ہے کہ کیامتوفی کی موت کا اس واقعہ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔فی الحال پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور آس پاس کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ وہیں مقامی لوگ اس واقعہ سے صدمے میں ہیں اور پولیس سے جلد از جلد اس معاملے کو حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔