• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • یمس کا بڑا فیصلہ، طلبہ اور عملے پر لوگو و برانڈنگ کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت لازمی

یمس کا بڑا فیصلہ، طلبہ اور عملے پر لوگو و برانڈنگ کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت لازمی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 25, 2026 IST

یمس کا بڑا فیصلہ، طلبہ اور عملے پر لوگو و برانڈنگ کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت لازمی
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ادارے کی شناخت کے استعمال سے متعلق نئے رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق اب طلبہ، ڈاکٹروں، فیکلٹی ممبران اور عملے کو ایمس کے نام، لوگو، نشان یا سرکاری برانڈنگ کے استعمال کے لیے پیشگی تحریری اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
 
ایمس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ادارے سے وابستہ کوئی بھی فرد اب بغیر سرکاری منظوری کے کسی ڈیجیٹل، پرنٹ یا آن لائن مواد میں ایمس نئی دہلی کے نام، لوگو یا دیگر سرکاری شناختی علامات کا استعمال نہیں کر سکے گا۔ ادارے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایمس کی شناخت کے غیر مجاز استعمال کو روکنا، مریضوں کی رازداری کا تحفظ یقینی بنانا اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔
 
کن افراد پر لاگو ہوں گے نئے ضوابط؟
 
نئے رہنما خطوط کا اطلاق ایمس سے وابستہ تقریباً تمام افراد پر ہوگا۔ اس میں انڈر گریجویٹ (UG)، پوسٹ گریجویٹ (PG)، سپر اسپیشلٹی اور ڈاکٹریٹ کے طلبہ، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز، فیکلٹی ممبران، محققین، انتظامی عملہ اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کی مختلف اکیڈمک سوسائٹیز، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشنز، طلبہ یونینز اور ایمس کے مختلف مراکز و محکموں سے وابستہ افراد بھی ان ضوابط کے دائرے میں آئیں گے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ ایمس کے ساتھ کسی بھی حیثیت میں وابستہ تیسرے فریق کو بھی ان اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
 
خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی وارننگ
 
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی یا نئے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ افراد کی ادارہ جاتی سہولیات اور رسائی کی مراعات معطل کی جا سکتی ہیں، جبکہ دیگر انتظامی پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں ادارے کی ساکھ، رازداری اور سرکاری شناخت کے تحفظ کے لیے ایسے ضوابط ناگزیر ہو چکے ہیں۔