Wednesday, February 11, 2026 | 23, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • اےپی اسمبلی کا ہنگامہ خیزآغاز۔ وائی ایس جگن کا پارٹی ایم ایلزکےساتھ واک آوٹ

اےپی اسمبلی کا ہنگامہ خیزآغاز۔ وائی ایس جگن کا پارٹی ایم ایلزکےساتھ واک آوٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 11, 2026 IST

اےپی اسمبلی کا ہنگامہ خیزآغاز۔ وائی ایس جگن کا پارٹی ایم ایلزکےساتھ واک آوٹ
آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہنگاموں کےساتھ شروع ہوا۔ گورنرعبدالنذیر دونوں ایوانوں سےمشترکہ طورپر خطاب کیا۔ دوسری طرف وائی ایس جگن موہن ریڈی ،وائی ایس آرسی پی، ایم ایل ایز اور ایم ایل سی کے ساتھ اسمبلی پہنچے۔
 
وہ پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے اسمبلی پہنچے۔ انھوں نے پلے کارڈز تھام کراسمبلی پہنچے۔ جس میں لکھا تھا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو  'اپوزیشن کا درجہ دیا جانا چاہیے'۔ وائی ​​ایس آر سی پی کے سبھی ارکان مخلوط حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے آئے۔ وہ حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے گیٹ نمبر 4 سے اسمبلی میں داخل ہوئے۔ 
 
 گورنرکے خطبہ کےدوران، وائی ایس آر سی پی کے ارکان نے بار بار ان کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش کی  اور نعرے لگائے۔ انہوں نے گورنر کی تقریر کو روکنے کی کوشش کی۔ احتجاجی اراکین نے نعرہ لگایا کہ وائی ایس آر سی پی کو اپوزیشن کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے  گئے سپر سکس کے وعدوں پر عمل کیا جائے اور بے روزگاری الاؤنس دیا جائے۔ تاہم انہوں نے 11 منٹ کے اندر گورنر کی تقریر کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی سے باہر چلے گئے۔ 
 ہو گئے۔ 
 
 وائی ایس آر سی پی ایم ایل ایز نے اے پی میں امن و سلامتی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔اس موقع پر وائی سی پی ارکان نے مطالبہ کیا کہ وائی سی پی کو اہم اپوزیشن پارٹی کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے اراکین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نعرے لگائے۔ بے روزگاری کے مراعات دینے کے علاوہ وہ میڈیکل کالجوں کی نجکاری کو بھی منسوخ کرنا چاہتے تھے۔ وائی ​​سی پی ارکان کے ہنگامے کے درمیان گورنر کی تقریر جاری رہی۔ اس تناظر میں وائی سی پی کے ارکان حکومت کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کر کے چلے گئے۔
 
وائی ​​ایس آر سی پی ایم ایل ایز اور ایم ایل سی بشمول وائی ایس جگن نے اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انہیں مرکزی اپوزیشن پارٹی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اور انہیں امن و سلامتی کے حوالے سےاحتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔اسمبلی سے نکلنے کے فوراً بعد جگن موہن ریڈی  نے  اپنے قافلے میں تاڈی پلی میں واقع اپنی رہائش گاہ گئے۔ اس کے ساتھ ہی وہ تمام لوگ جو جگن کے ایوان میں بولنے کا انتظار کر رہے تھے مایوس ہو گئے۔
 

ڈپٹی سی ایم، وائی سی پی پربرہم 

آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ اور جن سینا پارٹی کے سربراہ پون کلیان نے وائی سی پی پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ وائی ​​سی پی کے 11 ایم ایل ایز جنہوں نے اسمبلی اجلاس میں شرکت کی تھی احتجاج کیا اور11منٹ تک واک آؤٹ کیا جب گورنر ان سے خطاب کر رہے تھے۔اسمبلی کے ملتوی ہونے کے بعد کمیٹی ہال میں چندرابابو نائیڈو کی صدارت میں این ڈی اے قانون ساز پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پون کلیان نے اتحاد میں شامل ٹی ڈی پی، جنا سینا اور بی جے پی جماعتوں کو وائی سی پی کی سازشوں کے خلاف چوکنا رہنے کا مشورہ دیا۔ ریاست کا سالانہ بجٹ 14 فروری کو دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔ رواں بجٹ سیشن 12 مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔