• News
  • »
  • قومی
  • »
  • مساجد و مدارس کا سروے کیوں؟ اے پی سی آر، کا ریاستی حکومت سے سوالات

مساجد و مدارس کا سروے کیوں؟ اے پی سی آر، کا ریاستی حکومت سے سوالات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 11, 2026 IST

مساجد و مدارس کا سروے کیوں؟ اے پی سی آر، کا ریاستی حکومت سے سوالات
مغربی بنگال میں مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی اداروں سے متعلق معلومات جمع کرنے کی پولیس کی مبینہ کارروائی پر شہری حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تنظیم نے ریاستی حکومت اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارروائی کی وجہ، مقصد اور قانونی بنیاد کے بارے میں فوری طور پر وضاحت کی جائے۔ اے پی سی آر کے مطابق ریاست کے مختلف علاقوں میں مذہبی مقامات سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے اور ان کی نقشہ سازی کی کارروائی کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر کسی انتظامی یا سکیورٹی ضرورت کے تحت ایسا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے تو حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اس کا مقصد کیا ہے، اسے کس بنیاد پر جمع کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس معلومات کا استعمال کس طرح کیا جائے گا۔
 
 
حقوق کی تنظیم نے کہا کہ مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی اداروں کے بارے میں تفصیلی معلومات اکٹھی کرنے کی کارروائی، اگر کسی واضح قانونی حکم یا رہنما خطوط کے بغیر کی جا رہی ہے، تو اس سے ایک مخصوص کمیونٹی کے اندر خوف اور بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔اے پی سی آر نے سوال اٹھایا کہ انتظامیہ کو اس طرح کی معلومات جمع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا اس کارروائی کے لیے کوئی باضابطہ سرکاری حکم یا قانونی اختیار موجود ہے؟تنظیم کا کہنا ہے کہ شہریوں اور مذہبی اداروں سے متعلق حساس معلومات جمع کرتے وقت شفافیت، قانونی طریقہ کار اور شہری آزادیوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی کمیونٹی کے مذہبی مقامات کو محض عمومی انتظامی کارروائی کے نام پر نشانہ بنائے جانے کا تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیے۔
 
حکومت سے فوری وضاحت کا مطالبہ
 
اے پی سی آر نے مغربی بنگال حکومت اور ریاستی پولیس کے ڈی جی پی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کے سامنے واضح کریں کہ یہ سروے کس حکم کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔تنظیم نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا اس کارروائی کے لیے کوئی مقررہ ضابطہ، تحریری ہدایات یا قانونی فریم ورک موجود ہے؟ اگر ایسا کوئی حکم موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ اس معاملے میں پائی جانے والی بے یقینی ختم ہو سکے۔
 
عدالت سے رجوع کرنے کا انتباہ
 
اے پی سی آر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریاستی حکومت سروے کے مقصد، طریقہ کار اور قانونی بنیاد کے حوالے سے تسلی بخش وضاحت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو تنظیم اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کرے گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہیں، اس لیے کسی بھی انتظامی کارروائی میں قانون کی بالادستی اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔اب سب کی نظریں مغربی بنگال حکومت اور پولیس انتظامیہ کے ممکنہ جواب پر ہیں کہ مذہبی اداروں سے متعلق یہ معلومات کیوں جمع کی جا رہی ہیں، اس کا اصل مقصد کیا ہے اور اس کے لیے قانونی بنیاد کیا ہے؟