اتر پردیش کے آگرہ سے پولیس کی بربریت کا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ سائیا تھانہ علاقہ کے رہنے والے نریندر کشواہا کو جیوانی منڈی چوکی کے انچارج رویندر کمار نے بری طرح سے پیٹا کیونکہ اس نے آٹو چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ مزید برآں، چوکی انچارج اسے زبردستی چوکی لے گیا اوراسے تھرڈ ڈگری ٹارچرتشدد کا نشانہ بنایا، یہاں تک کہ اس کے پیر کے ناخن بھی نکال لیے۔
جب اہلِ خانہ نے اس معاملے میں سینئر پولیس افسران سے شکایت کی تو ملزم چوکی انچارج کو معطل کر کے کارروائی شروع کر دی گئی۔ نریندر اپنے بھائی دھیرج کے ساتھ دودھ کا کاروبار کرتا ہے۔ اس کا بھائی جیوَنی منڈی میں دودھ تقسیم کرنے گیا ہوا تھا۔ اسی دوران چوکی انچارج نے نریندر کو پکڑ لیا اور آٹو نہ چلانے پر اسے ہراساں کیا۔ اس واقعے کو لے کر علاقے کے لوگوں میں بھی شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
اطلاعات کے مطابق نریندر کشواہا اور دھیرج کشواہا دودھ کا کاروبار کرتے ہیں۔ جمعہ کے روز دونوں جیوَنی منڈی علاقے میں دودھ سپلائی کرنے پہنچے تھے۔ آٹو باہر کھڑا کر کے دھیرج دودھ دینے کالونی میں چلے گئے جبکہ نریندر آٹو کے پاس ہی موجود تھے۔ اسی دوران کسی جھگڑے کی اطلاع پر جیوَنی منڈی چوکی انچارج رویندر کمار موقع پر پہنچے اور کچھ نوجوانوں کو پکڑ کر لائے۔
چوکی انچارج نے نریندر سے کہا کہ وہ آٹو کے ذریعے ان نوجوانوں کو چوکی لے چلے۔ نریندر کشواہا کا الزام ہے کہ جب اس نے بتایا کہ اسے آٹو چلانا نہیں آتا تو چوکی انچارج ناراض ہو گئے اور اس کے ساتھ مارپیٹ کی۔ بعد ازاں اسے تھانہ چھتہ لے جایا گیا جہاں لاٹھیوں سے پٹائی کی گئی۔ یہی نہیں، پولیس نے اس کا موبائل فون اور نقد رقم بھی لے لی اور امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں اس کا چالان کر دیا۔
بی جے پی لیڈر نے افسران سے شکایت کی
نریندر نے اس پورے واقعے کی اطلاع بی جے پی لیڈر پریم سنگھ کشواہا کو دی۔ ہفتے کے روز بی جے پی لیڈر پریم سنگھ کشواہا متاثرہ نریندر کو ساتھ لے کر ڈی سی پی سٹی کے دفتر پہنچے اور پورے واقعے کی شکایت درج کرائی۔ نریندر نے اپنے جسم پر موجود چوٹوں کے نشانات بھی دکھائے۔
معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ڈی سی پی سٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جیوَنی منڈی چوکی انچارج رویندر کمار کو معطل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی تھانہ چھتہ کے تھانہ انچارج کو بھی کام میں لاپروائی برتنے کے الزام میں لائن حاضر کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی سٹی نے واضح کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی بربریت یا غیر مناسب رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے آگے کی کارروائی کی جائے گی۔