Tuesday, May 19, 2026 | 01 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • لکھنؤ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کا معاملہ، اکھلیش یادو نے بی جے پی پر مذہبی توہین کا الزام لگا دیا

لکھنؤ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کا معاملہ، اکھلیش یادو نے بی جے پی پر مذہبی توہین کا الزام لگا دیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 18, 2026 IST

لکھنؤ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کا معاملہ، اکھلیش یادو نے بی جے پی پر مذہبی توہین کا الزام لگا دیا
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو  نے اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں وکلاء کے چیمبرز گرائے جانے اور پولیس کارروائی کے معاملے پر یوپی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
 
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں ایک وکیل کو ہاتھ میں رام چریت مانس تھامے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پولیس اہلکار اس پر لاٹھی چارج کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
 
ایس پی سربراہ نے اپنی پوسٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو “غیر مذہبی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شری رام چریت مانس ہندوستان کی ہم آہنگ ثقافت اور اخلاقی اقدار کی علامت ہے۔
 
اکھلیش یادو نے لکھا کہ:
 
"شری رام چریت مانس ہماری مشترکہ تہذیب کا آئین اور انسانی اقدار کا ضابطہ ہے۔ لکھنؤ میں جس طرح اس کی بے حرمتی کی گئی، وہ ناقابل معافی ہے۔"
 
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی صرف اقتدار اور پیسے کی سیاست کرتی ہے اور مذہبی اقدار کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو  نے کہا کہ عوام اب “غیر مذہبی بی جے پی” کو مسترد کر دیں گے۔
 
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایک طرف اپوزیشن حکومت پر تنقید کر رہی ہے تو دوسری جانب بی جے پی حامی ان الزامات کو سیاسی بیان بازی قرار دے رہے ہیں۔