یکم ذوالحجہ 1447ھ منگل،19 مئی 2026ء سے شروع ہوگی۔ بھارت میں عیدالاضحیٰ 28 مئی 2026ء بروز جمعرات منائی جائےگی۔ ماہِ ذی الحجہ اسلامی کیلنڈر کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے، جو اپنی عظمت، برکت اور عبادات کی وجہ سے سال کے تمام مہینوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔اس ماہ میں اسلام کے دو اہم ترین رکن 'حج' اور 'قربانی' ادا کیے جاتے ہیں۔
ماہِ ذی الحجہ کی چند نمایاں فضیلتیں درج ذیل ہیں:
1. ابتدائی دس دنوں کی عظمت:ماہِ ذی الحجہ کے پہلے دس دن (عشرہ ذی الحجہ) اللہ تعالیٰ کو اتنے پسند ہیں کہ ان میں کی جانے والی نیکی سال کے دیگر تمام دنوں کی نیکیوں سے افضل ہے۔ قرآنِ مجید میں سورہ الفجر (آیت 2) میں ان دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے، جس سے ان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دن اللہ کے نزدیک سال کے سب سے بہترین اور بابرکت دن ہیں۔ ان ایام میں عبادات (خصوصاً تکبیرات تشریق) کا خاص حکم ہے۔ ذوالحجہ کے مہینے، ایام تشریق اور قربانی کے حوالے سے بنیادی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن اور ایام تشریق
عشرہ ذوالحجہ: یکم ذوالحجہ سے لے کر 10 ذی الحجہ (عید الاضحی) تک کا وقت بہت فضیلت والا ہے۔ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ تسبیح، تہلیل، تکبیر اور دیگر نیک اعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
2. حج کی سعادت:
یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع "حج" ادا کیا جاتا ہے۔ اس میں عرفات کا میدان سجتا ہے اور حاجی اللہ کی رحمت و مغفرت طلب کرتے ہیں۔
3. یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ):
یوم عرفہ کا روزہ
نویں ذی الحجہ کا دن یومِ عرفہ کہلاتا ہے۔ اس دن روزہ رکھنے کی بہت فضیلت آئی ہے، اور احادیث کے مطابق یہ پچھلے اور اگلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
4. تکبیراتِ تشریق:
نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد تکبیرات پڑھنا (اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد) واجب ہے، جو اللہ کی بڑائی اور توحید کے اقرار کا بہترین ذریعہ ہے۔
5. عید الاضحیٰ اور قربانی (10 ذی الحجہ):
دس ذی الحجہ کو مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ قربانی کا مقصد تقویٰ اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔
قربانی کے دن: قربانی کا بنیادی دن 10 ذی الحجہ ہے۔ اس کے بعد دو دن (11 اور 12 ذی الحجہ) بھی قربانی کے دن ہیں۔
وقتِ قربانی: قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے اور قربانی کے آخری دن کے غروبِ آفتاب سے پہلے تک رہتا ہے۔
استحباب: جن لوگوں نے قربانی کرنی ہوتی ہے، ان کے لیے یکم ذی الحجہ سے لے کر جانور ذبح کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب قرار دیا گیا ہے تاکہ حاجیوں سے مشابہت ہو۔