آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ملک کی تمام سیکولر پارٹیوں اور ممبران پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ جب کل پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش ہو تو نہ صرف اس کی پرزور مخالفت کریں بلکہ اس کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کرکے بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل نہ صرف تفریق اور ناانصافی پر مبنی ہے بلکہ دستور ھند کے بنیادی حقوق کی دفعات 14/25/ اور/26 سے راست متصادم بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس بل کے ذریعہ وقف قانوں کو کمزور اور وقف املاک کو ہڑپنے نیز انہیں تباہ وبرباد کرنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ ویسے بھی ورشپ پلیسیز ایکٹ کی موجودگی کے باوجود ہر مسجد میں مندر کی تلاش کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ اب اگر یہ ترمیمی بل منظورکرلیا گیا تو اوقافی املاک پر حکومتی و غیر حکومتی دعوؤں کی باڑھ آجائے گی اور کلکٹر و ڈی ایم کے ذریعہ انہیں ہتیانا آسان ہوجائے گا۔
بورڈ کے صدر نے اپنی اپیل میں آگے کہاکہ ان ترمیمات کے ذریعہ وقف بائی یوزر کا خاتمہ ، لا آف لمیٹیشن سے استثنی کا ختم کیا جانا، وقف بورڈ اور سینٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم ممبران کی شمولیت اور وقف ٹریبونل کے اختیارات کا کم کیا جانا ایسی ترمیمات ہیں جو وقف املاک کو حاصل تحفظات کو ختم کردے گی۔ اسی طرح اس ایکٹ میں حکومت( مرکزی و ریاستی حکومت، میونسپل کارپوریشن اور سیمی آٹونامس باڈیز) کی شمولیت اور حکومتی دعوؤں کا نمٹارہ وقف ٹریبونل کے بجائے کلکٹر یا ڈی ایم کے ذریعہ کیا جانا ایسی ترمیم ہے جو وقف املاک پر حکومت کے ناجائز قبضوں کو جواز فراہم کردے گی۔ یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ سب وہ تحفظات ہیں جو ملک میں دیگر مذاہب کی وقف املاک کو بھی حاصل ہیں۔ لہذا صرف مسلمانوں کی وقف املاک کو ٹارگیٹ کرنا تفریق و ناانصافی پر مبنی ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنی اپیل میں آگے کہا کہ ہمارا ملک ہندو مسلم بھائی چارے اور ایک دوسرے کے مذہب، رسوم و رواج اور تہواروں کے احترام کے حوالے سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی اس وقت ان عناصر نے ملک کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لی ہے جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اس فضا کو تباہ کرکے ملک میں انارکی وانتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے آپ کی ذات سے اور آپ کی پارٹی سے پوری امید ہے کہ کل آپ بی جے پی کے اس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ناکام بنا دیں گے۔