اتر پردیش میں گزشتہ سال 'I love Muhammad' پوسٹرز کے حوالے سے کھڑے ہونے والے تنازع میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سات ماہ سے جیل میں بند ملزم ندیم کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس بھی دیے۔
جسٹس راجیو لوچن شکلا کی سنگل بنچ نے سماعت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملزم کی جس سوشل میڈیا پوسٹ کو 'قابل اعتراض' قرار دیا گیا تھا، اس میں کسی خاص ذات یا کمیونٹی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ملزم ندیم، جس کا تعلق مظفر نگر سے ہے، اس پر بی این ایس (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
فریقین کے دلائل:
ملزم کے وکیل کا موقف: ملزم کے وکیل نے دلیل دی کہ کیس کی چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے اور مقدمے کی سماعت جلد مکمل ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ندیم کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔
سرکاری وکیل کی مخالفت: ریاست کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس پوسٹ کی وجہ سے بریلی میں تشدد بھڑکا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔ تاہم، سرکاری وکیل اس بات سے انکار نہ کر سکے کہ بریلی تشدد میں جس "ندیم خان" کا نام سامنے آیا تھا، وہ یہ ملزم نہیں ہے بلکہ کوئی دوسرا شخص ہے۔
تاہم عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد ملزم کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔