جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا پُرزور خیرمقدم کیا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی واضح، غیر مبہم اور دوٹوک توثیق ہے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ملک کے مختلف حصوں خاص طور پر اتر پردیش میں، محض نماز ادا کرنے یا دیگر مذہبی اجتماع پر ایف آئی آر درج کی گئیں، گرفتاریاں عمل میں آئیں اور مذہبی عبادت کو بلاجواز امن و امان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔
آئین میں شہریوں کو عبادت کا حق حاصل
تاہم’ دیر آید، درست آید‘کے مصداق، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اب نہایت واضح اور صاف آئینی رہنمائی فراہم کرتا ہےاور ایسی تمام کاروائیوں کے خلاف ایک سخت آئینی تنبیہ ہے کہ بنیادی حقوق کو انتظامیہ کی صوابدید کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا، نیز آئین شہریوں کو عبادت کا حق عطا کرتا ہے، جسے ریاست اپنی مرضی سے نہ سلب کر سکتی ہے اور نہ ہی معطل کر سکتی ہے۔
رمضان سے پہلے مسلمانوں کو مشورہ
مولانا مدنی نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے اور اس مقدس مہینے میں خصوصی طور پر تراویح اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امید ہے کہ گزشتہ رمضان کی طرح اترپردیش پولیس اس طرح کی غیر آئینی کاروائیوں سے باز رہے گی اور لوگوں کی عبادت میں خلل نہیں ڈالے گی ۔ مولانا مدنی نے ذمہ داران کو متوجہ کیا کہ وہ فیصلے کی کاپی اپنے ساتھ محفوظ رکھیں۔

جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ امن، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کی داعی
مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ امن، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کی داعی رہی ہے، تاہم آئینی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔ اگر عدالتی فیصلوں کے باوجود شہریوں کی مذہبی آزادی بالخصوص عبادت پر روک لگائی گئی تو آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے سے آئندہ بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔