اسد الدین اویسی نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان ہندو محفوظ نہیں ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ جہاں 100 مسلمان رہتے ہیں، وہاں 50 ہندو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پھر میری گاڑی پر گولی کیوں چلائی گئی؟
سی ایم یوگی کے بیان پر اویسی کا سخت ردعمل:
اویسی نے کہا کہ میں، شوکت اور یامین گاڑی میں سوار تھے۔ حملہ آوروں نے مجھ پر 6-7 راؤنڈ فائر کئے۔ آخر اس نے ایسا کیوں کیا؟ جب عدالت نے ضمانت دی تو مجھے ان ظالم لوگوں کی ضمانتیں منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ جانا پڑا۔ ہم یوگی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اناؤ میں محمد شریف ہولی نہیں کھیلنا چاہتے تھے تو وہاں کے فسادیوں نے انہیں مارا پیٹا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کل عید آئے گی اور لوگوں کو پکڑ کر کہنے لگوں کہ بھائی شیر خرماکھاؤ۔ زبردستی کھاؤ، ذیابیطس کے مریض ہیں تو کیا ہوا آپ کو اسے کھانا چاہیے۔ آپ کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔ شریف نے بھی انکار کیا لیکن غنڈوں نے ان کی پٹائی کر دی۔
भारत में ना हिन्दुओं को मुसलमानों से खतरा है और ना मुसलमानों को हिन्दुओं से खतरा है बल्कि भारत में अगर किसी को खतरा है तो RSS की सोच, @narendramodi और @myogiadityanath से खतरा हैpic.twitter.com/c6QxcuFYSP
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) March 28, 2025
نہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے خطرہ ہے اور نہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے !
اسد الدین اویسی نے کہا کہ میں یوگی آدتیہ ناتھ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں نہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے خطرہ ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ ہے۔ ہندوستان کے عوام اور اس کے قانون کو اگر کسی سے کوئی خطرہ ہے تو وہ آر ایس ایس، مودی اور یوگی کے نظریے سے ہے۔اویسی نے کہا کہ آپ جو ہماری سلامتی اور عزت کی بات کرتے ہیں وہ آپ کی خیرات نہیں ہے۔ یہ اسد الدین اویسی کا پیدائشی حق ہے۔ جینے کا حق اس قانون کا بنیادی حق ہے۔ اس قسم کا بیان وزیر اعلیٰ دیتے ہیں اور وہ ملک کا وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔