آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما اکثر اپنے مسلم مخالف اور متنازع بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ٹوئٹر (ایکس) ہینڈل سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو پر شدید تنازع کھڑا ہوا تھا، جس میں ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو علامتی طور پر گولی مارتے دکھایا گیا تھا۔
اس ویڈیو کی وجہ سے سوشل میڈیا سے لے کر دنیا بھر میں ہمنتا بسوا شرما کی شدید تنقید ہوئی تھی، جس کے بعد بی جے پی نے اسے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ہٹا دیا تھا۔ اب وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کریں گے، لیکن اس بار اس میں دکھائے گئے لوگوں کو "بنگلہ دیشی" قرار دیا جائے گا۔
جمعرات (12 مارچ) کو آج تک چینل سے بات چیت کے دوران آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اس ویڈیو کے بارے میں بڑا بیان دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو گولی مارنے والی ویڈیو کو "صحیح" قرار دیا، لیکن اس میں جن لوگوں کو دکھایا گیا تھا انہیں "بنگلہ دیشی" بتانا چاہیے تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ وہ نہ تو بنگلہ دیشی شہریوں پر اور نہ ہی غیر قانونی تارکین وطن پر گولی چلا سکتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ صرف علامتی گولی باری تھی۔ سی ایم ہمنتا بسوا شرما نے کہا:یہ اس لیے تاکہ بنگلہ دیشی آسام میں گھسپیٹھ نہ کریں۔
ہمنتا بسوا شرما نے یہ بھی کہا کہ ویڈیو اس لیے ہٹائی گئی تھی کیونکہ اس میں "بنگلہ دیشی" لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ "قانونی اور آئینی طور پر غلط" ہو گئی تھی۔ شرما نے دعویٰ کیا:ہم اسے ٹھیک کریں گے اور دوبارہ پوسٹ کریں گے۔
اس کے علاوہ، آسام کے سی ایم ہنستے ہوئے کہا کہ اسی ویڈیو کو ترمیم کر کے بی جے پی کے آفیشل اکاؤنٹ سے نہیں بلکہ ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسام میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
بتا دیں کہ یہ ویڈیو 7 فروری کو بی جے پی کی آسام یونٹ کے سوشل میڈیا ہینڈل سے شیئر کی گئی تھی۔ ویڈیو میں بی جے پی لیڈر کے رائفل سنبھالنے کے کچھ اصلی مناظر دکھائے گئے تھے۔ اس ویڈیو میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے تیار کی گئی تصاویر لگائی گئی تھیں، جن میں شرما کو مسلمانوں پر نشانہ لگاتے دکھایا گیا تھا۔سوشل میڈیا پر تنقید بڑھنے کے بعد اس ویڈیو کلپ کو ہٹا دیا گیا تھا۔
اس ویڈیو کے خلاف کانگریس کی آسام یونٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما اور بی جے پی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) اور بھارتی کمیونسٹ پارٹی نے بھی اس معاملے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کر کے نچلی عدالت میں جانے کا مشورہ دیا تھا۔
اس سے پہلے 11 فروری کو ہمنتا بسوا شرما نے میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ وہ اور ان کی پارٹی آسام کے مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا:ہم آسام کے مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف ہیں۔