تلنگانہ میں دسویں کلاس کے سالانہ بورڈ امتحانات14 مارچ سے شروع ہوں گے۔ امتحانات16 اپریل تک جاری رہیں گے۔ حکام نے امتحانات میں شرکت کرنےوالےطلبا کو پانچ منٹ تاخیر سے پہنچنے پر بھی شرکت کی اجازت دی ہے۔ پانچ منٹ سے زائد تاخیر سے آنے والوں کو امتحان ہال میں ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ امتحان صبح ساڑے نو بجے سےشروع ہوں گے۔ امتحان کےاوقات صبح 9:30 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک تمام مضامین کے لیے مقرر کیے گئے ہیں اور صبح 9:35 کے بعد آنے والے طلباء کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
5 لاکھ17 ہزارسےزائد طلبا کیلئے2،676امتحانی مراکز
عہدیداروں نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک گھنٹہ قبل امتحانی مراکز پہنچ جائیں۔ امتحانات کے انعقاد کے لیے ریاست بھر میں 2,676 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں 1,582 اور پرائیویٹ سکولوں میں 1,094 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس بار 5,17,727 طلباء امتحانات لکھنے جا رہے ہیں۔
امتحانی مراکز کو'نوسیل فون' زون قرار دیا گیا
حکام نے دسویں جماعت کے امتحانات کے دوران موبائل فون کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امتحانی مراکز کو 'نو سیل فون' زون قرار دیا گیا ہے۔ یہ قواعد امتحانی عملے اور اسکواڈ سمیت دیگر تمام اہلکاروں پر لاگو ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ معائنہ کے لیے آنے والے اہلکاروں کو بھی موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں اپنے موبائل فون باہر رکھنا ہوں گے۔ جو بھی آئے گا اسے معائنہ کے بعد ہی اندر جانے دیا جائے گا۔ اگر کوئی ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے اور سیل فون کے ساتھ ڈیوٹی پر حاضر ہوتا ہے تو اسے معطل کر دیا جائے گا۔ پیپر لیک میں ملوث افراد کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا۔
دوہری ذمہ داری ایک بڑا چیلنج
اس بار دسویں جماعت کے امتحانات میں عجیب صورتحال ہے۔ خاص طور پر ڈی ای اوز کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ امتحانات ہورہے ہیں اور اسی وقت جوابی پرچوں کا جائزہ لیا جانا ہے، جس سے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔دوسری جانب، محکمہ تعلیم اور خاص طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرس کے لئے اس بار دوہری ذمہ داری ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ ایک طرف 14 مارچ سے امتحانات شروع ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف یکم اپریل سے جوابی پرچوں کی جانچ کا عمل بھی شروع ہو جائے گا جس کی وجہ سے امتحانات کے انعقاد اور کیمپوں کی نگرانی کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکام کے لئے دردسر بن گیا ہے۔