Tuesday, January 06, 2026 | 17, 1447 رجب
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری، سپریم لیڈرنے مظاہرین کو دی سخت وارننگ

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری، سپریم لیڈرنے مظاہرین کو دی سخت وارننگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 05, 2026 IST

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری، سپریم لیڈرنے مظاہرین کو دی سخت وارننگ
ایران میں حال ہی میں شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس دوران اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بغاوت کے درمیان سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ماسکو فرار ہو سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر ایران میں ان کی حکومت گرتی ہے تو خامنہ ای ماسکو فرار ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ان کی سیکوریٹی ایجنسیاں بڑھتے ہوئے مظاہروں کو دبانے میں ناکام رہیں تو 86 سالہ خامنہ ای اپنے معاونین اور خاندان کے افراد کے ساتھ تہران چھوڑ دیں گے۔ 
 
ایک انٹلی جنس ذرائع نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ خامنہ ای کا پلان 'بی' اپنے قریبی ساتھیوں اور خاندان کے ساتھ ملک چھوڑنا ہے جس میں ان کے بیٹے اور نامزد جانشین مجتبیٰ بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت وہ اپنے تقریباً 20 قریبی ساتھیوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ ایران چھوڑ سکتے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر 2024 میں اس وقت کے شامی صدر بشار الاسد، جو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور خامنہ ای دونوں کے اتحادی ہیں، باغیوں کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ماسکو فرار ہو گئے تھے۔
 
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر 86 سالہ سپریم لیڈر کا ردِعمل پہلی بار سامنے آیا ہے۔ اس دوران دارالحکومت تہران سمیت ملک کے دیگر شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ملک کی کمزور ہوتی معیشت، ریال کی گرتی ہوئی قدر اور مہنگائی سے پریشان عوام حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
 
ان مظاہروں پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والے لوگوں کو بے رحمی سے مارا جا رہا ہے۔ اگر مظاہرین پر جبر بند نہ ہوا تو امریکہ انہیں بچانے کے لیے آئے گا۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ ایران میں کس قسم کی مداخلت کرے گا۔
 
یہ تازہ مظاہرے 2022 میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی خواتین کی تحریک کے بعد حکومت کے خلاف سب سے بڑا احتجاج ہیں۔ 2022 میں 22 سالہ نوجوان خاتون مہسا امینی کو سر کھلا رکھنے کے باعث پولیس نے گرفتار کیا تھا اور بعد میں پولیس حراست میں اس کی موت ہو گئی تھی۔ مہسا کی موت کے بعد ایران میں سخت گیر حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا اور مختلف شہروں میں خواتین نے عوامی مقامات پر اپنے بال کاٹ کر اور حجاب جلا کر احتجاج کیا تھا۔
 
ہفتے کے روز تہران میں لوگوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے شہروں میں پھیلتی بدامنی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی وجہ سے دنیا میں ایران کی شبیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ملکی کرنسی ریال کی قدر گر رہی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ سرکاری حکام مظاہرین سے بات چیت کر رہے ہیں، لیکن ہنگامہ کرنے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، انہیں ان کی صحیح جگہ پر پہنچا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے دشمن ریال کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ایسے شرپسندوں کو دشمن طاقتوں کی ہر طرح کی حمایت حاصل ہے۔ یہ شرپسند اسلام کا نام لے کر اسلامی ریاست کو نقصان پہنچانے کی سازش میں شامل ہیں۔