• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • رام مندر عطیہ چوری کیس: تحقیقات میں تیزی، کانگریس رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا

رام مندر عطیہ چوری کیس: تحقیقات میں تیزی، کانگریس رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 30, 2026 IST

رام مندر عطیہ چوری کیس: تحقیقات میں تیزی، کانگریس رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا
ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ عطیات کی چوری کے معاملے کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے۔ پولیس اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) مسلسل کارروائی کر رہی ہیں، جبکہ اس معاملے پر سیاسی کشیدگی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت اور انتظامیہ کے کردار پر سوالات اٹھا رہی ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
 
اسی سلسلے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کانگریس کے ان رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی ہے جو مبینہ عطیات کے غبن کے خلاف احتجاج اور مارچ میں شرکت کرنے والے تھے۔ انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے تحت اتر پردیش کانگریس کے ریاستی صدر کو ایودھیا میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا، جبکہ کانگریس کے سینئر رہنما دیپک سنگھ کو امیٹھی میں گھر پر ہی روک دیا گیا تاکہ وہ احتجاجی مارچ میں شریک نہ ہو سکیں۔
 
کانگریس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ پارٹی کا ایک خصوصی وفد ایودھیا کا دورہ کرے گا اور رام مندر میں مبینہ عطیات کی چوری کے خلاف احتجاج کرے گا۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق کانگریس کارکنان ایودھیا کی جانب پیدل مارچ بھی کرنے والے تھے تاکہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا سکے۔
 
اپوزیشن کا الزام ہے کہ رام مندر جیسے اہم مذہبی مقام پر عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور اس کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ عوام کے عطیات امانت ہیں اور اگر ان کے استعمال یا حساب کتاب میں کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
 
دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بچنے کے لیے بعض سیاسی رہنماؤں کی نقل و حرکت محدود کی گئی، جبکہ رام مندر عطیہ چوری کیس کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ پولیس اور ایس آئی ٹی مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں اور شواہد جمع کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
 
یہ معاملہ اب سیاسی رنگ بھی اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف حکومت تحقیقات کے جاری رہنے پر زور دے رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اسے شفافیت اور جوابدہی کا امتحان قرار دے رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں اس کیس کی پیش رفت اور تحقیقاتی نتائج پر سیاسی و عوامی نظریں مرکوز رہیں گی۔