• News
  • »
  • صحت
  • »
  • عقل داڑھ سے متعلق عام غلط فہمیاں، مسائل، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر

عقل داڑھ سے متعلق عام غلط فہمیاں، مسائل، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 30, 2026 IST

عقل داڑھ سے متعلق عام غلط فہمیاں، مسائل، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر
 منصف ٹی وی کے خصوصی  پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج عقل داڑھ (Wisdom Teeth یا Third Molars) کے موضوع پر معروف کاسمیٹک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر ثمینہ علی نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے عقل داڑھ سے متعلق عام غلط فہمیوں، اس کے مسائل، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر پر ناظرین کو مفید معلومات فراہم کیں۔
 
ڈاکٹر ثمینہ علی نے بتایا کہ عقل داڑھ عام طور پر 17 سے 25 سال کی عمر کے درمیان نکلتی ہے۔ بعض افراد میں یہ بغیر کسی تکلیف کے نکل آتی ہے، جبکہ کئی لوگوں میں جبڑوں میں مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث یہ جزوی یا مکمل طور پر مسوڑھوں کے اندر پھنس جاتی ہے، جسے Impacted Wisdom Tooth کہا جاتا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ متاثرہ عقل داڑھ کی وجہ سے شدید درد، مسوڑھوں میں سوجن، منہ کھولنے میں دشواری، بدبو، انفیکشن، چبانے میں تکلیف اور قریبی دانتوں کو نقصان پہنچنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات دانت کے اردگرد سسٹ (Cyst) بھی بن سکتی ہے، جس کے باعث بروقت علاج ضروری ہو جاتا ہے۔
 
ڈاکٹر ثمینہ علی کے مطابق ہر عقل داڑھ کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر دانت مکمل طور پر صحیح سمت میں نکل رہا ہو، صفائی آسانی سے ہو رہی ہو اور کسی قسم کی تکلیف یا پیچیدگی نہ ہو تو اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر دانت بار بار انفیکشن، درد، سوجن یا دوسرے دانتوں پر دباؤ کا سبب بن رہا ہو تو سرجری کے ذریعے اسے نکالنا ہی بہتر علاج ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ جدید ڈینٹل ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ایکسرے اور مقامی بے ہوشی (Local Anesthesia) کی بدولت عقل داڑھ نکالنے کا عمل پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ، تیز اور کم تکلیف دہ ہو گیا ہے۔ آپریشن کے بعد مریض کو ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آرام، نرم غذا، برف کی ٹکور، مناسب ادویات اور منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ زخم جلد بھر سکے اور انفیکشن سے بچا جا سکے۔
 
ڈاکٹر ثمینہ علی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ عقل داڑھ نکلنے کے دوران یا اس سے پہلے ڈینٹل معائنہ ضرور کروائیں، کیونکہ بروقت تشخیص سے مستقبل میں ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود سے درد کش ادویات کا مسلسل استعمال مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اس سے اصل بیماری چھپ سکتی ہے۔
 
پروگرام کے دوران ناظرین کے مختلف سوالات کے بھی جواب دیے گئے اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ دانتوں میں درد، مسوڑھوں کی سوجن یا عقل داڑھ سے متعلق کسی بھی علامت کو نظر انداز نہ کریں۔ باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ، روزانہ برش، فلاسنگ اور منہ کی صفائی کی اچھی عادات نہ صرف عقل داڑھ بلکہ مجموعی دانتوں کی صحت کو بھی بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
 قارئین آپ عقل داڑ سے متعلق مزید جانکاری اس ویڈیو میں دیکھ سکتےہیں۔ اورساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پرماہر ڈاکٹرز کے صحت سے متعلق دیگر ویڈیو ز بھی دیکھ سکتےہیں۔