• News
  • »
  • قومی
  • »
  • تئیس اپوزیشن پارٹیوں نے سی جے آئی کو لکھا خط۔ الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر رول پر کیا سوال

تئیس اپوزیشن پارٹیوں نے سی جے آئی کو لکھا خط۔ الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر رول پر کیا سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 30, 2026 IST

تئیس اپوزیشن پارٹیوں نے سی جے آئی کو لکھا خط۔ الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر رول پر کیا سوال
 ملک کی تئیس سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے منگل کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو ایس آئی آر کےعمل، الیکشن کمیشن کے کردار اور انتخاب سے متعلق دیگر مسائل پر ایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ دستخط کرنے والوں میں انڈیا  بلاک کی تمام بڑی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ عاپ  اور ڈی ایم کے شامل ہیں جنہوں نے خود کو اتحاد سے الگ کر لیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے یہ معلومات دی اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مضبوطی کے ساتھ "SURE یعنی یکجہتی، اتحاد اور مزاحمت" کے اصول پر قائم ہیں۔
 
جے رام رمیش نے ایکس پرلکھا، "8 جون 2026 کو انڈیا جن بندھن کی میٹنگ میں 21 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) عمل اور انتخابات سے متعلق دیگر امور پر معزز چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا جائے۔" انہوں نے کہا۔"ان کے مطابق، اب 23 سیاسی جماعتوں کے علاوہ ایک آزاد رکن کے دستخط شدہ ایک مشترکہ خط آج عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیجا گیا ہے،"
 
مشترکہ خط پر کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا لیڈر اپوزیشن راہل گاندھی، ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، ایس پی سربراہ اکھلیش یادو، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمرعبداللہ، بائیں بازو کے رہنماؤں اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل کے علاوہ دیگر نے دستخط کیے ہیں۔
 
ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ اس خط پر عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے نے بھی دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے ایکس پرکہا۔"انڈیا اتحاد کی پیش رفت اچھی  ہے۔ اور ہاں ،عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے نے بھی سی جے آئی  کو مشترکہ خط پر دستخط کیے،"۔اوبرائن نے بعد میں میڈیا کو بتایا کہ "یہ خط انڈیا بلاک کی تمام جماعتوں کا مکمل ٹیم ورک ہے۔"پیشرفت سے واقف ایک سینئر اپوزیشن لیڈر کے مطابق، خط اس خیال کے گرد مرکوز ہے کہ جب باقی سب کچھ ناکام ہوجاتا ہے، ہندوستانی جمہوریت عدلیہ کی طرف دیکھتی ہے۔
 
اپوزیشن لیڈر نے کہا۔"یہ عدلیہ کے ضمیر سے اپیل کرتا ہے۔ عدلیہ کو دیکھنا ہے کہ آج ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ جب باقی سب کچھ ناکام ہو جائے تو ہم کس کی طرف رجوع کرتے ہیں؟" ۔ذرائع نے بتایا کہ خط میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کردار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں مثالیں پیش کی گئی ہیں کہ کس طرح ایس آئی آر کے عمل نے مختلف ریاستوں میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔
 
رمیش نے کہا کہ 8 جون کو ہوئی انڈیا الائنس کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سی جے آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، ممتا بنرجی، تیجسوی یادو، اکھلیش یادو، ہیمنت سورین، عمر عبداللہ، کپل سبل اور ڈیرک اوبرائن نے خط پر دستخط کیے تھے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ جب مرکز میں تمام نظام ناکام ہوجاتے ہیں تو ہندوستانی جمہوریت عدالتی نظام میں پناہ لیتی ہے۔
 
حزب اختلاف کے رہنماؤں نے عدلیہ سے کہا ہے کہ وہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا نوٹس لے اور اسے صورتحال کا خیال رکھنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ خط میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کردار اور مختلف ریاستوں میں ووٹروں پر انتخابات کے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی اور اپوزیشن مرکزی حکومت کی طرف سے لاگو کی جا رہی خصوصی گہری نظرثانی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔