Friday, May 15, 2026 | 27 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • بی جے پی نے شراب لائسنس جاری کرنے کی مخالفت کی: جموں کشمیرحکومت پرتنقید

بی جے پی نے شراب لائسنس جاری کرنے کی مخالفت کی: جموں کشمیرحکومت پرتنقید

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 15, 2026 IST

بی جے پی نے شراب لائسنس جاری کرنے کی مخالفت کی: جموں کشمیرحکومت پرتنقید
بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر میں شراب کےلائسنس جاری کیے جانے کی شدید مخالفت کی ہے اورعمرعبداللہ حکومت کو وادی میں شراب کی دکانوں کو چلانے کی اجازت دینے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ بی جے پی کے تینوں ترجمان،الطاف ٹھاکر، ساحل بشیر اور منظور ،نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ پولیس نے بی جے پی لیڈروں کو اس وقت روک لیا ۔جب انہوں نے مارچ کو آگے لے جانے کی کوشش کی۔ بی جے پی ترجمان الطاف ٹھاکر اور ساحل بشیر کو احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان رہنماؤں نے بغیر کسی تاخیر کے شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

لاک ڈاؤن جیسے احتجاج کی دھمکی 

شراب کے لائسنس سے متعلق رپورٹوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ وہ کشمیر میں شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر انتظامیہ اس منصوبے کو آگے بڑھاتی ہے تو "لاک ڈاؤن جیسا احتجاج" کی دھمکی دی ہے۔

 پورے خطے میں بڑے پیمانے پر احتجاج 

بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ اگر شراب کی دکانوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تو پارٹی پورے خطے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرے گی اور اس اقدام کو کشمیر کے لوگوں کے ثقافتی اور مذہبی جذبات کے خلاف قرار دیا ہے۔

 حکومت کے ارادوں پر شدید رد عمل 

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وادی کے بعض حصوں میں شراب کی دکانوں اور شراب کی فروخت کے لائسنس پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے شدید سیاسی رد عمل سامنے آیا۔

 عوامی جذبات کو نظر انداز کرنے کا الزام 

بی جے پی نے عمر عبداللہ کی زیرقیادت انتظامیہ پر عوامی جذبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ شراب کی دکانیں کھولنے سے بدامنی اور مقامی برادریوں کی شدید مخالفت ہو سکتی ہے۔

 حکومت نے ابھی تک اعلان نہیں کیا 

حکومت نے، تاہم، ابھی تک کشمیر میں بڑے پیمانے پر شراب کی دکانوں کو کھولنے کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔

 اپوزیشن اور حکومت میں تصادم !

اس مسئلے نے جموں و کشمیر میں سیاحت، کاروباری ضابطے اور خطے میں الکحل کی فروخت سے جڑی ثقافتی حساسیت پر سیاسی بحث کو دوبارہ شروع کر دیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے درمیان ایک بڑا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔

 این سی نے ہمیشہ شراب پر پابندی کی حمایت کی

ادھر  جموں و کشمیر اسمبلی اسپیکر اور رکنِ اسمبلی چرارِ شریف  عبدالرحیم راتھر نے  کہا ہے کہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس پہلے ہی شراب بندی کے حق میں آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے ہر وقت شراب پر پابندی لگانے کی بات کی، مگر آج تک بننے والی دیگر حکومتوں نے اس معاملے میں تعاون نہیں کیا۔
 
انہوں نے کہا کہ شراب اور دیگر منشیات ایک سنگین سماجی برائی ہیں، جنہوں نے معاشرے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق نشہ آور اشیا کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی سطح پر بیداری اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، اور شراب پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے۔